Azad Khyalo Ka Anjaam Ya Ghairti Ka Janoon | Sana Yousuf Murder Case

 آزاد خیالی کا انجام یا غیرت کا جنون۔۔۔۔۔۔؟؟

لبرل ازم کا فریب، دوغلا پن اور سچائی کا گلا گھونٹتا بیانیہ۔۔۔۔۔۔!!

ایک چترالی بیٹی، جسے کسی قبیلے یا غیرت کے علمبردار نے نہیں، بلکہ فیصل آباد کے ایک پنجابی نوجوان نے بے دردی سے قتل کیا۔

تفصیل کچھ یوں ہے کہ جب گھر میں صرف پھپھو موجود تھیں، موصوف "مہمان" بن کر تشریف لائے، اور پھپھو کے مطابق دونوں کے تعلقات "مہذب معاشروں" کے معیار پر بھی ناپسندیدہ تھے۔

تو اب سوال یہ ہے: کیا یہ واقعی غیرت کا قتل تھا؟ یا وہی پرانا "آزاد محبت" کا زہریلا پھل، جو بالآخر خون میں ڈوبا ہوا ملا۔۔۔۔۔۔؟؟

لیکن ادھر واقعہ ہوا، اُدھر خود ساختہ روشن خیالوں کا لشکر حسبِ عادت چیخنے لگا:


> "یہ غیرت کے نام پر قتل ہے!"

>"اسلامی معاشرہ خواتین کے لیے جہنم ہے!"

>"مولوی ذمہ دار ہے!"


مگر سچ ایک بار پھر ان کے منہ پر زوردار طمانچہ بن کر اترا:

🔺 نہ قاتل کوئی داڑھی والا تھا،

🔺 نہ مقتولہ کسی مدرسہ کی طالبہ،

🔺 اور نہ ہی اس تعلق کو دین نے پروان چڑھایا۔


اصل میں یہ اُس "آزادی" کا انجام ہے، جو بغیر حدود کے دی گئی۔ یہ وہی "محبت" ہے جسے سوشل میڈیا پر لائکس اور فالوورز کے نشے میں چڑھایا جاتا ہے۔ یہ وہی ذہنیت ہے جسے "میرا جسم، میری مرضی" جیسے کھوکھلے نعروں نے جنم دیا ہے۔

جسے پاکستانی ڈراموں میں دیکھایا گیا ویسا ہی ہوا

 افسوس کا مقام یہ ہے کہ جب کوئی عشقِ ممنوعہ، خون میں نہا کر ختم ہوتا ہے، تو کوئی لبرل یہ نہیں پوچھتا:

> محبت کی یہ شکل کیوں پنپی؟

>نوجوان نسل کے رشتے اتنے غیر محفوظ کیوں ہیں؟

>لڑکیوں کو بے دھڑک آزادی دے کر ہم نے کیا کھویا؟

لیکن ہدف ایک ہی ہوتا ہے: 

🛑 اسلام

🛑 علماء

🛑 غیرت


کبھی عاشق کے کردار پر سوال نہیں،

کبھی مقتولہ کے طرزِ زندگی پر غور نہیں،

بس ہر بار دین کو گالیاں،

اور پھر خود کو "ترقی پسند" کہلوانے کی خواہش۔

حقیقت یہ ہے: 

> یہ مذہب کی ناکامی نہیں، لبرل اخلاقیات کی موت ہے۔

> یہ مولوی کا فتویٰ نہیں، فیس بکی عشق کا خونی انجام ہے۔

> یہ غیرت کا جنون نہیں، بے لگام آزادی کی قیمت ہے۔

ہر ماں باپ کے لیے لمحہ فکریہ ہے:

اپنی بیٹیوں کو یہ سکھائیں کہ:

> جب آزادی حدود پھلانگ جائے، تو قیمت صرف عزت نہیں، زندگی بھی ہو سکتی ہے۔

> جب شریعت کو ترک کیا جائے تو ذلت مقدر بنتی ہے۔

> جب حدود اللّٰہ سے نکل کر من مانی کی جاتی ہے تو زندگی، زندگی نہیں رہتی موت بن جاتی ہے۔

بہرحال یہ انتہائی گھٹیا جرم تھا، یہ سنگین ظلم تھا، لہٰذا ہم مقتولہ کے قتل کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور ریاست سے اپیل کرتے ہیں کہ مجرم کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے اور کڑی سے کڑی سزا دی جائے اور میری اپنے قوم کے والدین سے گزارش ہے کہ خدارا اپنے بیٹوں کی تربیت سیدنا یوسف علیہ السلام کی سیرت کے مطابق کریں۔ انھیں بتائیں کہ ہمارے اسلاف کون تھے۔ ہماری رگوں میں کن عظیم لوگوں کا خون دوڑ رہا ہے۔ ہم سیدی محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے امتی ہیں۔ ہمیں ہمارا دین تشدد پہ آمادہ نہیں کرتا۔ کسی بے گناہ کی جان لینے پر نہیں اکساتا۔ کسی کی ماں، بہن اور بیٹی کی عزت کو سر بازار اچھالنا نہیں سکھاتا۔ 

محبت ہوگئی تو ہوگئی لیکن یہ سب ایک مسلمان مرد کو زیب نہیں دیتا۔ پسند کی شادی کرو لیکن کسی پہ زور زبردستی نہیں کرو۔ وگرنہ دنیا میں بھی رسوا ہو گے اور آخرت میں بھی ذلیل لوگوں میں شمار کیے جاؤ گے۔ اللّٰہ ہمیں دین متین پر چلنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔

آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

آپ کی دعاؤں کا طالب

محمد عمر آفندی

Post a Comment

Previous Post Next Post