امیر خسرو: علم و ادب کا سمندر (حصہ دوم)


پہلے حصے میں ہم نے ان کی زندگی کے ابتدائی حالات اور اردو (ہندوی) کی بنیادوں پر بات کی۔ اب ہم ان کے اس علمی سرمائے کا ذکر کریں گے جس نے انہیں دنیا کے عظیم ترین فارسی شعراء کی صف میں لا کھڑا کیا۔

5. فارسی تصانیف اور شعری کمال

امیر خسرو محض ایک شاعر نہیں تھے، بلکہ وہ ایک "کثیر التصانیف" ادیب تھے۔ روایات کے مطابق ان کی تصانیف کی تعداد 99 بتائی جاتی ہے، جن میں سے اب صرف چند ہی دستیاب ہیں، مگر وہ دستیاب ذخیرہ بھی علم کا ایک جہان ہے۔

  • خمسۂ خسرو: خسرو نے نظامی گنجوی کے نقشِ قدم پر "خمسہ" لکھا۔ یہ پانچ مثنویوں کا مجموعہ ہے جن میں مطلع الانوار، شیریں خسرو، مجنوں لیلیٰ، آئینہ سکندری اور ہشت بہشت شامل ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ برصغیر کے شعراء فارسی زبان و بیان میں ایران کے اساتذہ سے پیچھے نہیں ہیں۔

  • دیوانِ پنج گانہ: خسرو کی غزلوں کے پانچ مجموعے ہیں جو ان کی عمر کے مختلف ادوار کی نمائندگی کرتے ہیں:

    1. تحفۃ الصغر (بچپن و لڑکپن کا کلام)

    2. وسط الحیات (جوانی کا کلام)

    3. غرر الکمال (پختگی کا کلام)

    4. بقیہ نقیہ (ادھیڑ عمری)

    5. نہایۃ الکمال (آخری عمر کا کلام)

6. تاریخ نگاری اور نثر

خسرو نے شاعری کے علاوہ تاریخ نگاری میں بھی کمال دکھایا۔ ان کی نثری اور منظوم تاریخی تصانیف اس عہد کی سیاست اور معاشرت کو سمجھنے کا سب سے مستند ذریعہ ہیں:

  • خزائن الفتوح: اس میں انہوں نے سلطان علاؤ الدین خلجی کی فتوحات کا ذکر کیا ہے۔

  • قران السعدین: دو بادشاہوں (بغرا خان اور کیقباد) کی ملاقات کا حال منظوم شکل میں بیان کیا ہے۔

  • تغلق نامہ: غیاث الدین تغلق کی کامیابیوں کی داستان۔

  • نو سپہر (Nine Skies): یہ کتاب ہندوستان سے خسرو کی والہانہ محبت کا ثبوت ہے۔ اس میں انہوں نے ہندوستان کے موسموں، پھلوں، پرندوں، علم و دانش اور یہاں کی زبانوں کی تعریف کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ ہندوستان دنیا کے دیگر خطوں سے کیوں بہتر ہے۔


موسیقی اور امیر خسرو: ایک نیا انقلاب

امیر خسرو کی شخصیت کا ایک اور درخشاں پہلو ان کی موسیقی سے وابستگی ہے۔ انہیں "نایک" (موسیقی کا عظیم استاد) کہا جاتا ہے۔ انہوں نے ہندوستانی اور ایرانی موسیقی کے امتزاج سے ایک نئی روح پھونکی۔

1. قوالی کی ایجاد

تصوف اور موسیقی کا جو حسین سنگم آج ہم "قوالی" کی صورت میں دیکھتے ہیں، اس کے بانی امیر خسرو ہیں۔ انہوں نے صوفیانہ کلام کو ایک خاص ترتیب اور تال کے ساتھ پیش کرنے کا طریقہ رائج کیا تاکہ مریدین کے دلوں پر وجدانی کیفیت طاری ہو سکے۔ انہوں نے "قول" (حضرت محمد ﷺ کا فرمان) سے قوالی کا آغاز کیا، اسی لیے اسے قوالی کہا جاتا ہے۔

2. آلاتِ موسیقی: ستار اور ڈھولک

روایات کے مطابق، خسرو نے قدیم ہندوستانی "وینا" میں تبدیلی کر کے "ستار" (سہ تار یعنی تین تار والا) ایجاد کیا۔ اسی طرح انہوں نے پکھاوج کو دو حصوں میں تقسیم کر کے "ڈھولک" یا "تبلے" کی ابتدائی شکل دی، جس سے تال میں زیادہ تیزی اور نغمگی پیدا ہوئی۔

3. راگ اور راگنیاں

خسرو نے کئی نئے راگ ایجاد کیے جن میں ایمن، کلول، قول، ترانہ اور خیال شامل ہیں۔ انہوں نے موسیقی کو درباروں سے نکال کر خانقاہوں اور پھر عوام تک پہنچایا۔


ہندوستان کی مشترکہ تہذیب (گنگا جمنی تہذیب) کا معمار

امیر خسرو وہ پہلے دانشور تھے جنہوں نے "ہندوستانیت" کا تصور پیش کیا۔ وہ ایک سچے قوم پرست (Patriot) تھے۔

  • لسانی پل: انہوں نے فارسی کو اشرافیہ کی زبان رہنے دیا لیکن ہندوی کو عوام کی زبان بنا کر ایک ایسا لسانی پل تعمیر کیا جس نے آنے والی صدیوں میں اردو اور ہندی کی شکل اختیار کی۔

  • ثقافتی ہم آہنگی: وہ ہندوؤں کے تہواروں (جیسے بسنت) میں شریک ہوتے تھے۔ آج بھی درگاہِ نظام الدین اولیاء پر "بسنت" کا تہوار اسی خسروی روایت کے مطابق منایا جاتا ہے، جہاں زرد لباس پہن کر صوفیانہ کلام پڑھا جاتا ہے۔

  • مقامی رنگ: ان کی شاعری میں ہندوستان کے عام آدمی کے دکھ سکھ، برسات کی رت، ساون کے جھولے، اور شادی بیاہ کے گیت (جیسے کہ 'کاہے کو بیاہی بدیس') ملتے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ مٹی سے جڑے ہوئے انسان تھے۔


اردو کے ارتقائی مراحل میں خسرو کا کردار (تفصیلی جائزہ)

اردو کے ارتقاء کو اگر ہم ایک پودے سے تشبیہ دیں تو اس کا بیج خسرو نے بویا تھا۔ ان کا عہد اردو کا "جیناتی عہد" (Genetic Period) کہلا سکتا ہے۔

  1. لسانی ڈھانچہ: خسرو نے یہ ثابت کیا کہ مقامی زبان (کھڑی بولی) میں وہ صلاحیت موجود ہے کہ اسے علمی اور ادبی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

  2. صنعت گری: انہوں نے اردو میں صنعتوں کا استعمال شروع کیا۔ ان کی "پہیلیاں" اور "مکرنیاں" دراصل زبان کی نوک پلک سنوارنے کی ابتدائی کوششیں تھیں۔

  3. عوامی مقبولیت: خسرو سے پہلے شاعری صرف درباروں یا مخصوص حلقوں تک محدود تھی۔ خسرو نے اسے چوراہوں، گھروں اور خانقاہوں تک پہنچا دیا۔


اگلے حصے (حصہ سوم) میں ہم درج ذیل پر توجہ دیں گے:

  1. امیر خسرو کے آخری ایام اور ان کے مرشد کی وفات کے اثرات۔

  2. خسرو کا وہ کلام جو آج بھی لوک گیتوں کی صورت میں زندہ ہے۔

  3. ان کی شخصیت کا بین الاقوامی اثر اور جدید اردو ادب پر ان کے نقوش۔


Post a Comment

Previous Post Next Post