امیر خسرو: ہجر و وصال اور آخری سفر (حصہ سوم)

 


امیر خسرو کی زندگی کا سب سے پرکشش اور جذباتی پہلو ان کی اپنے مرشد، حضرت نظام الدین اولیاءؒ سے والہانہ وابستگی ہے۔ یہ رشتہ محض ایک مرید کا پیر سے نہیں تھا، بلکہ یہ روح کا روح سے وہ تعلق تھا جس نے اردو اور فارسی ادب کو لافانی اشعار دیے۔

7. مرشد کی وفات اور خسرو کی بے چینی

1325ء میں جب حضرت نظام الدین اولیاءؒ کا وصال ہوا، اس وقت امیر خسرو ایک شاہی مہم پر بنگال میں تھے۔ جب انہیں یہ المناک خبر ملی، تو ان کی دنیا اجڑ گئی۔ وہ دیوانہ وار دہلی پہنچے، اپنے بال بکھیر لیے، چہرے پر خاک ملی اور اپنے مرشد کی تربت پر جا کر وہ تاریخی دوہا پڑھا جو آج بھی اردو/ہندوی ادب کا شاہکار مانا جاتا ہے:

"گوری سووے سیج پر، مکھ پر ڈارے کیس چل خسرو گھر آپنے، رین بھئی چودیس"

(وہ گوری یعنی محبوب اپنی سیج پر سو گئی ہے اور چہرے پر زلفیں بکھیر لی ہیں۔ اے خسرو! اب تو بھی اپنے گھر لوٹ چل کہ اب ہر طرف اندھیرا چھا گیا ہے۔)

کہا جاتا ہے کہ مرشد کے غم میں انہوں نے کھانا پینا ترک کر دیا اور ٹھیک چھ ماہ بعد، اسی تڑپ میں جان دے دی۔ ان کی وصیت کے مطابق انہیں حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے قدموں میں جگہ ملی۔ یہ عقیدت کی ایک ایسی مثال ہے جو صدیوں سے زائرین کے لیے مشعلِ راہ ہے۔


خسرو کا کلام: عوامی روایت اور لوک گیت

امیر خسرو کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ انہوں نے صرف اشرافیہ کے لیے نہیں لکھا۔ ان کا کلام آج بھی شادیوں، ساون کے جھولوں اور صوفیانہ محفلوں کا حصہ ہے۔

1. رخصتی کے گیت (بابل)

برصغیر میں بیٹی کی رخصتی کے وقت گایا جانے والا مشہور گیت "کاہے کو بیاہی بدیس، سن بابل مورے" امیر خسرو ہی سے منسوب ہے۔ اس گیت میں ایک بیٹی کا اپنے باپ سے مکالمہ اور اپنے گھر سے جدائی کا دکھ جس خوبصورتی سے بیان ہوا ہے، وہ خسرو کی انسانی نفسیات پر دسترس کا ثبوت ہے۔

2. رنگ اور قوالی

خسرو نے اپنے مرشد کی شان میں جو کلام لکھا، وہ آج بھی قوالی کی محفلوں کی جان ہے۔

  • "آج رنگ ہے ری ماں، آج رنگ ہے"

  • "چھاپ تلک سب چھینی رے موسے نینا ملائیکے" ان کلاموں میں اردو کی ابتدائی شکل (ہندوی) اپنے پورے جوبن کے ساتھ نظر آتی ہے۔ ان اشعار نے اردو کو عوامی جذبات کے اظہار کا سب سے بڑا ذریعہ بنا دیا۔


اردو کے ارتقاء میں خسرو کا دیرپا اثر

اگر ہم اردو ادب کی تاریخ کو دیکھیں، تو خسرو نے وہ بیج بویا تھا جسے بعد میں ولی دکنی، میر تقی میر اور غالب نے ایک تناور درخت بنایا۔

  • صنفِ غزل کی آبیاری: اگرچہ خسرو کی زیادہ تر غزلیں فارسی میں تھیں، لیکن انہوں نے غزل کے مزاج میں جو "ہندوستانیت" اور "سوز و گداز" پیدا کیا، وہی آگے چل کر اردو غزل کا خاصہ بنا۔

  • عوامی زبان کا وقار: اس دور میں فارسی کو علم کی زبان اور ہندوی کو پست سمجھا جاتا تھا۔ خسرو نے ہندوی میں لکھ کر اسے ایک ادبی وقار بخشا اور ثابت کیا کہ یہ زبان بھی اعلیٰ خیالات کے اظہار کے قابل ہے۔

  • لسانی لچک: خسرو نے اردو کو وہ لچک دی کہ یہ عربی، فارسی اور مقامی بولیوں کے الفاظ کو اپنے اندر سمونے کے قابل ہو گئی۔


ایک ہمہ جہت شخصیت کا خلاصہ

امیر خسرو ایک فرد نہیں بلکہ ایک تہذیب کا نام تھے۔

  1. شاعر: جنہوں نے فارسی اور اردو دونوں کو مالا مال کیا۔

  2. موسیقار: جنہوں نے ستار اور تبلے جیسے آلات دیے۔

  3. مورخ: جنہوں نے دہلی سلطنت کی تاریخ کو محفوظ کیا۔

  4. صوفی: جنہوں نے انسانیت اور محبت کا درس دیا۔

  5. محبِ وطن: جنہوں نے برصغیر کی مٹی، یہاں کے پھلوں، پرندوں اور زبانوں کو دنیا بھر میں متعارف کرایا۔


اختتامی کلمات

امیر خسرو کا 10,000 الفاظ پر مشتمل مکمل احاطہ ایک نشست میں ممکن نہیں، کیونکہ ان کی ہر کتاب اور ہر ایجاد پر ایک مستقل تصنیف لکھی جا سکتی ہے۔ تاہم، ان تین حصوں میں ہم نے ان کی زندگی کے تمام اہم گوشوں، ان کی اردو خدمات اور ان کے علمی و روحانی مرتبے کو سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔

ان کا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ انہوں نے ہمیں "اردو" جیسی میٹھی زبان کا ابتدائی ڈھانچہ دیا اور ہندوستان کو ایک مشترکہ ثقافتی شناخت عطا کی۔


(جاری ہے)

Post a Comment

Previous Post Next Post