امیر خسرو: لسانی ماہر اور سماجی معمار (حصہ چہارم)


امیر خسرو کی شخصیت کا ایک نہایت اہم پہلو ان کی علمی دور اندیشی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ جب دو مختلف تہذیبیں (اسلامی وسط ایشیائی اور قدیم ہندوستانی) آپس میں مل رہی ہیں، تو ان کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ زبان کی ہے۔ اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے انہوں نے جو عملی اقدامات کیے، وہی اردو کی بنیاد بنے۔

8. "خالقِ باری": اردو کی پہلی منظوم لغت

امیر خسرو نے "خالقِ باری" کے نام سے ایک رسالہ لکھا جو درحقیقت ایک لغت (Dictionary) تھی۔ یہ دنیا کی انوکھی ترین لغات میں سے ایک ہے کیونکہ یہ نثر کے بجائے نظم میں ہے۔

  • مقصد: اس کا مقصد مسلمان بچوں کو مقامی ہندوی الفاظ اور ہندوستانی بچوں کو فارسی و عربی الفاظ سکھانا تھا۔

  • اندازِ تحریر: اس میں ایک ہی مصرعے میں عربی، فارسی اور ہندوی کے ہم معنی الفاظ پروئے گئے تھے۔ مثلاً:

    خالق باری، سرجن ہار واحد ایک، بدو کرتار

  • لسانی اثر: اس کتاب نے اردو کے ذخیرہ الفاظ کو وسعت دی اور لوگوں کو سکھایا کہ کس طرح مختلف زبانوں کے الفاظ ایک ہی جملے میں خوبصورتی سے سما سکتے ہیں۔ یہ کتاب صدیوں تک برصغیر کے مکتبوں میں نصاب کا حصہ رہی۔

9. خسرو کی شعری صنعتیں اور لسانی تجربات

خسرو نے اردو (ہندوی) کے ساتھ جو تجربات کیے، وہ آج کے لسانی ماہرین کو بھی حیران کر دیتے ہیں۔ ان کی ایجاد کردہ اصنافِ سخن دراصل زبان کی مشق (Exercise) تھیں:

  • دو سخنے: یہ ایک ایسا فن تھا جس میں دو مختلف سوالوں کا ایک ہی جواب ہوتا تھا۔ مثلاً:

    سوال: گوشت کیوں نہ کھایا؟ جوتا کیوں نہ پہنا؟ جواب: "تلا نہ تھا" (گوشت تلا ہوا نہیں تھا اور جوتے میں تلا یعنی Sole نہیں تھا)۔

  • انمل مٹیاں (Nonsense Verse): اس میں خسرو مختلف خیالات کو جوڑ کر ایک مضحکہ خیز مگر دلچسپ کیفیت پیدا کرتے تھے، جو بچوں میں زبان کی رغبت پیدا کرنے کا ذریعہ بنتی تھی۔

  • فارسی اور ہندوی کی آمیزش: انہوں نے ایسی پہیلیاں لکھیں جن کا آدھا حصہ فارسی اور آدھا ہندوی ہوتا تھا، جس سے دونوں زبانوں کے بولنے والے ایک دوسرے کے قریب آئے۔

10. برصغیر کی شناخت اور "نو سپہر" کا پیغام

خسرو پہلے ادیب تھے جنہوں نے کھل کر اعلان کیا کہ ہندوستان ان کا وطن ہے اور یہ جنت کا نمونہ ہے۔ اپنی کتاب "نو سپہر" کے تیسرے باب میں وہ دس وجوہات بیان کرتے ہیں کہ ہندوستان دوسرے ممالک سے کیوں برتر ہے:

  1. یہاں کا علم و فلسفہ۔

  2. ریاضی اور ہندسوں کی ایجاد (صفر کا تصور)۔

  3. "کلیلہ و دمنہ" جیسی دانشورانہ کتابوں کا یہاں سے نکلنا۔

  4. موسیقی کا کمال جو جانوروں پر بھی اثر کرتا ہے۔

  5. یہاں کی زبانوں کی فصاحت۔

خسرو نے یہ ثابت کیا کہ اردو کسی غیر ملکی حملے کا نتیجہ نہیں بلکہ اس مٹی کی اپنی ضرورت اور پیداوار ہے، جس نے فارسی کے لب و لہجے کو اپنا کر ایک نیا رنگ اختیار کیا۔


اردو کے ارتقائی ادوار پر خسرو کا سایہ

امیر خسرو سے شروع ہونے والا یہ سفر کس طرح آگے بڑھا، اسے ہم درج ذیل نکات میں دیکھ سکتے ہیں:

  • خسرو سے قلی قطب شاہ تک: خسرو نے دہلی میں جو بیج بویا، وہ صوفیاء کے ذریعے دکن پہنچا، جہاں قلی قطب شاہ نے اسے باقاعدہ ادبی شکل دی۔

  • سوز و گداز کا تسلسل: خسرو کے "قول" اور "رنگ" نے اردو شاعری کو وہ داخلیت دی جو بعد میں "میر تقی میر" کے ہاں انتہا کو پہنچی۔

  • جدید اردو کا پیش خیمہ: آج کی جدید اردو میں جو تراکیب استعمال ہوتی ہیں، ان کی ابتدائی تراش خراش خسرو کے ہاں نظر آتی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ایک "مشترکہ تہذیب" (Composite Culture) کی آواز ہے۔


حاصلِ مطالع 

امیر خسرو کی زندگی کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ ایک ایسے ہمہ گیر انسان تھے جن کی نظر مستقبل پر تھی۔ انہوں نے ایک ایسی زبان کی آبیاری کی جو رنگ، نسل اور مذہب سے بالاتر ہو کر سب کو جوڑ سکے۔ اردو ادب کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی، اس کا پہلا باب امیر خسرو کے ذکر کے بغیر ادھورا رہے گا۔

وہ "طوطیِ ہند" بھی تھے اور "ترک اللہ" بھی۔ ان کا کلام آج بھی مزاروں پر قوالیوں کی صورت میں، دیہاتوں میں پہیلیوں کی صورت میں اور شہروں میں غزلوں کی صورت میں زندہ ہے۔ وہ اردو کے پہلے معمار ہیں جنہوں نے اس زبان کو وہ بنیادیں فراہم کیں جن پر آج ایک عظیم الشان ادبی عمارت کھڑی ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post