کُرد مسئلہ اور نئی صف بندیاں
شام کی دہائیوں پر محیط خانہ جنگی کے بعد اب ایک ایسا دور شروع ہوا ہے جہاں میدانِ جنگ کی فتوحات سے زیادہ سیاسی تدبر اور مفاہمت کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اس تناظر میں احمد الشرع نے خود کو ایک غیر روایتی سیاست دان کے طور پر منوایا ہے۔ اگرچہ ان کا پس منظر عسکری رہا ہے، لیکن حالیہ فیصلوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ شام کے پیچیدہ جغرافیائی اور نسلی مسائل کو حل کرنے کا ایک واضح ویژن رکھتے ہیں۔
1. کُرد مسئلہ: شام کا سب سے بڑا داخلی چیلنج
شام کا سب سے حساس معاملہ شمال مشرقی خطہ ہے، جو ملک کے مجموعی رقبے کا تقریباً ایک تہائی ہے۔ اس علاقے پر کُرد قوم پرست گروہوں کا قبضہ ہے، جو کہ نظریاتی طور پر انتہائی سیکولر اور آزاد منش ہیں۔
بشار الاسد کا دور: سابقہ دورِ حکومت میں کُردوں اور دمشق کے درمیان ایک "خاموش مفاہمت" رہی۔ اسد حکومت نے کُردوں کو ایک حد تک خودمختاری دی تاکہ وہ داعش کے خلاف لڑیں، جبکہ دونوں فریق اپنے اپنے علاقوں کے وسائل سے مستفید ہوتے رہے۔
موجودہ صورتحال: احمد الشرع کے نزدیک شام کی سالمیت کے لیے ایک متوازی ریاست کا وجود ناقابلِ قبول ہے، تاہم وہ اسے صرف طاقت سے نہیں بلکہ سیاسی حقوق کے ذریعے حل کرنے کے خواہشمند ہیں۔
2. احمد الشرع کا "میثاقِ شام" اور کُردوں کو مراعات
احمد الشرع نے کُردوں کے حوالے سے جو حالیہ سرکاری اعلامیہ جاری کیا ہے، اسے عرب تاریخ میں ایک انقلابی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کُردوں کو سلطان صلاح الدین ایوبی کا جانشین قرار دے کر ان کی اسلامی اور تاریخی شناخت کو بحال کرنے کی کوشش کی ہے۔
اعلامیہ کے اہم نکات:
زبان اور ثقافت: کُرد زبان کو شام کی سرکاری زبان کا درجہ دینا ایک تاریخی فیصلہ ہے، جس کا مقصد کُردوں کے احساسِ محرومی کو ختم کرنا ہے۔
سیاسی شراکت داری: حسکہ جیسے اہم شہر میں کُرد سردار مظلوم عبدی کو گورنر تسلیم کرنے کی پیشکش اس بات کا ثبوت ہے کہ الشرع کُردوں کو انتظامیہ میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔
معاشی حقوق: تیل کی پیداوار میں کُرد علاقوں کا حصہ طے کرنا اور ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم متعارف کروانا ایک منصفانہ ریاست کی بنیاد ہے۔
3. فوجی حکمتِ عملی اور مزاحمت
احمد الشرع نے جہاں مفاہمت کا ہاتھ بڑھایا، وہیں ریاست کی رٹ قائم کرنے کے لیے عسکری قوت کا استعمال بھی جاری رکھا۔ کُرد جنگجو (SDF/YPG) جو کہ ایک الگ ریاست کے خواب پر قائم ہیں، مسلسل ایک سال سے ہر مذاکراتی پیشکش کو ٹھکرا رہے تھے۔ اس ضد کے نتیجے میں:
شامی فوج نے ان علاقوں کی جانب پیش قدمی کی جو معاشی طور پر ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
درجن کے قریب تیل کے ذخائر واگزار کرا لیے گئے ہیں۔
شامی فوج اب حسکہ کے قریب پہنچ چکی ہے، جو کُرد قوم پرستوں کا آخری مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔
4. قبائلی اتحاد اور داخلی استحکام
احمد الشرع کی سب سے بڑی کامیابی شام کے قدیم اور بااثر قبائل کو اپنے ساتھ ملانا ہے۔ جنگوں میں اکثر قبائل تقسیم ہو جاتے ہیں، لیکن یہاں دیکھا گیا ہے کہ قبائلی گروہ نہ صرف فوج کا ساتھ دے رہے ہیں بلکہ وہ الشرع کی "مدبرانہ سٹریٹجی" پر مکمل اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ اتحاد شام کو ایک مضبوط قومی ریاست بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
5. ترکی کا کردار اور علاقائی امن
اس تمام صورتحال میں ترکی کا کردار ایک تزویراتی شراکت دار (Strategic Partner) کا ہے۔ ترکی، جو خود کُرد علیحدگی پسندی کو اپنی بقا کے لیے خطرہ سمجھتا ہے، شام کی موجودہ حکومت کو بھرپور اسلحہ اور انٹیلیجنس فراہم کر رہا ہے۔
مشترکہ ہدف: ترکی اور شام دونوں کا مقصد خطے سے علیحدگی پسند تحریکوں کا خاتمہ ہے۔
مستقبل کا وژن: ایک متحد شام نہ صرف ترکی کے لیے پرامن پڑوسی ثابت ہوگا بلکہ مستقبل میں کسی بھی "مشترکہ دشمن" (صہیونی ریاست یا بیرونی مداخلت کار) کے خلاف ایک مضبوط ڈھال بنے گا۔
حاصلِ کلام
احمد الشرع نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سیاست صرف تقریروں کا نام نہیں بلکہ زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے مخالف کو باعزت طریقے سے قومی دھارے میں لانے کا نام ہے۔ کُردوں کو تمام تر انسانی اور سیاسی حقوق کی پیشکش اور ساتھ ہی بغاوت کی صورت میں عسکری کارروائی، ایک ایسی متوازن پالیسی ہے جو شام کو دوبارہ نقشے پر ایک متحد قوت کے طور پر ابھار سکتی ہے۔ اگر کُرد قیادت اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھاتی، تو وہ نہ صرف اپنے وسائل کھو دے گی بلکہ تاریخ کے ایک اہم موڑ پر تنہا رہ جائے گی۔
.png)