عالمی بساط پر بزدلانہ سیاست اور پاکستان کا "فولادی" وجود: ایک تجزیاتی مطالعہ

 


موجودہ دور کی عالمی سیاست اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں "ترقی یافتہ" کہلانے والے ممالک کی اخلاقی اور عسکری بنیادیں ریت کی دیوار ثابت ہو رہی ہیں۔ ایک طرف وہ ممالک ہیں جو ٹیکنالوجی اور دولت کے ڈھیر پر بیٹھے ہیں لیکن معاشی مفادات کے سامنے ان کی ہمت جواب دے جاتی ہے، اور دوسری طرف وہ خوددار ریاستیں ہیں جو بھوک اور پابندیاں تو برداشت کر سکتی ہیں لیکن سر جھکانا ان کی جبلت میں نہیں۔

1. یورپی اتحاد کی حقیقت: ٹیرف کا ڈر اور "ایک دو فوجی"

گرین لینڈ کی حفاظت کے لیے ڈنمارک کی حمایت میں یورپی ممالک کا صرف ایک ایک یا دو دو فوجی بھیجنا عالمی سیاست کا سب سے بڑا لطیفہ ہے۔ یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یورپ اب صرف ایک "کاغذی شیر" رہ گیا ہے۔

  • امریکی ٹیرف کا خوف: جیسے ہی امریکہ نے ٹیرف بڑھانے کی دھمکی دی، ان ممالک نے اپنے علامتی فوجی بھی واپس بلا لیے۔ یہ وہی "بزدلانہ" مزاج ہے جس کے خلاف سلطان صلاح الدین ایوبی نے صلیبی جنگیں لڑی تھیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب دشمن کا مقصد صرف مال و دولت ہو، تو وہ نظریاتی جنگجو کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا۔

  • فرانس کا دوغلا پن: فرانس جو بھارت کو رافیل طیارے بیچ کر بڑا دفاعی پارٹنر بنتا ہے، آج اپنے سورس کوڈ دینے سے ہچکچا رہا ہے۔ یہ ممالک صرف تجارت کرنا جانتے ہیں، دوستی نبھانا ان کے بس کی بات نہیں۔

2. یورپی قیادت کی لڑکھڑاہٹ اور ایشیائی بلاک

اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی کا دبی دبی آواز میں "چین اور روس بلاک" کی طرف جھکاؤ کا تذکرہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یورپ اب امریکہ کی مکمل غلامی سے تھک چکا ہے، لیکن ان میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ کھل کر اسٹینڈ لے سکیں۔

  • کینیڈا اور فرانس کی بیان بازی: ان ممالک کی ہمت صرف بیانات کی حد تک محدود ہے۔ عملی میدان میں یہ معاشی پابندیوں کے ایک جھٹکے کی مار ہیں۔

  • روس اور چین کا ابھار: روس نے یورپی اقوام کو تعلقات کی پیشکش کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب دنیا یک قطبی (Unipolar) نہیں رہی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یورپی عوام میں اتنی سکت ہے کہ وہ امریکی اثر و رسوخ سے نکل سکیں؟

3. ایران: پابندیوں کے سائے میں خودداری کی مثال

ایران نے ثابت کیا ہے کہ اگر قوم میں غیرت ہو تو دہائیوں کی بھوک اور پابندیاں بھی حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔

  • آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا: ایران نے امریکہ کو اسی کی زبان میں جواب دیا کہ "اگر تم نے قدم بڑھایا تو مڈل ایسٹ میں تمہارے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔"

  • اسرائیل کی بوکھلاہٹ: ایران کی اس دھمکی نے نیتن یاہو کو مجبور کر دیا کہ وہ ٹرمپ کے پاؤں پڑے کہ ایران پر حملہ نہ کرنا، ورنہ اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ یہ طاقت کا وہ توازن ہے جو صرف "ایمان اور جرات" سے پیدا ہوتا ہے۔

4. پاکستان: ایک "رف اینڈ ٹف" ریاست

پاکستان کی صورتحال دنیا کے تمام ممالک سے بالکل مختلف اور منفرد ہے۔ اللہ نے ہمیں ایک ایسی ریاست دی ہے جس کی جڑیں کسی مصنوعی معیشت پر نہیں بلکہ عوام کے سخت مزاج پر کھڑی ہیں۔

  • پابندیوں کا بے اثر ہونا: دنیا ہم پر کیا پابندی لگائے گی؟ ہماری برآمدات تو پہلے ہی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ہم تو وہ قوم ہیں جو پہلے ہی قرضوں اور مشکلات میں رہنے کے عادی ہو چکے ہیں۔

  • معیشت بمقابلہ غیرت: مغرب کو ٹیرف بڑھنے سے اپنی عیاشیاں ختم ہونے کا ڈر ہے، ہمیں کیا ڈر ہوگا؟ ہماری معیشت تو "ٹرک" کی مانند ہے، جو خود تو ٹوٹا پھوٹا لگتا ہے لیکن جو اس سے ٹکراتا ہے، وہی پاش پاش ہوتا ہے۔

5. ایٹمی طاقت اور عوامی جذبہ

پاکستان کا ایٹمی پروگرام صرف ایک دفاعی ہتھیار نہیں بلکہ قوم کے عزائم کا عکاس ہے۔

  • عوامی دباؤ: آج پاکستانی قوم کا بچہ بچہ یہ کہتا ہے کہ "ایٹم بم چلاؤ، ہم نے دیکھنا ہے یہ چلتا کیسے ہے۔" یہ وہ جنونی جذبہ ہے جو دنیا کی کسی بڑی سے بڑی فوج کے پاس نہیں ہے۔

  • فیلڈ مارشل کا وژن: فیلڈ مارشل ایوب خان نے سچ کہا تھا کہ "ہم نے ایسی دنیا کو کیا کرنا ہے جس میں پاکستان ہی نہ ہو۔" یہ ایک ایسا جملہ ہے جو دشمن کے دلوں میں لرزہ طاری کر دیتا ہے۔ ہم وہ پٹاخہ پھوڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس کے بعد نہ کھیل رہے گا اور نہ کھلاڑی۔


نتیجہ فکر

موجودہ عالمی صورتحال میں "کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ" کی تصویر یورپ ہے، جو اپنے ہتھیاروں اور پیسوں کے باوجود خوفزدہ ہے۔ جبکہ "مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی" کی عملی تفسیر وہ قومیں ہیں جو ایران اور پاکستان کی طرح ڈٹ کر کھڑی ہیں۔ پاکستان کو کسی ٹیرف یا پابندی سے ڈرانے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ وہ ملک ہے جو "کچھ نہ ہونے" کے باوجود "سب کچھ تباہ کرنے" کی صلاحیت رکھتا ہے۔


Post a Comment

Previous Post Next Post