تحقیقِ حق: امامِ اعظمؒ اور قاضی نعمان شیعہ کے درمیان فرق کا تفصیلی بیان

 

تاریخِ اسلام کے صفحات میں علم و تحقیق کے نام پر کئی بار ایسی علمی خیانتیں کی گئیں جن کا مقصد جلیل القدر ائمہ کی ذات کو داغدار کرنا تھا۔ ان میں سب سے بڑا مغالطہ "نام کی یکسانیت"  کا فائدہ اٹھا کر پیدا کیا گیا۔ ایک طرف کائناتِ علم و فقہ کے آفتاب، امامِ اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابتؒ ہیں، اور دوسری طرف شیعہ مذہب (فاطمی/اسماعیلی) کے قاضی ابو حنیفہ نعمان بن محمد ہیں۔

مخالفین (خصوصاً غیر مقلدین اور بعض متعصب شیعہ) قاضی نعمان مصری کی بیہودہ اور غلیظ عبارتوں کو امامِ اعظمؒ کی طرف منسوب کر کے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ ذیل میں اس فتنے کا مکمل علمی تعاقب پیش ہے۔


فتنے کی جڑ: مسئلہ "لفِ حریر" (ریشم لپیٹنا) اور حقیقتِ حال

مخالفین اکثر ایک مسئلہ پیش کرتے ہیں کہ "نعمان" نامی فقیہ نے محارم (ماں، بہن، بیٹی) کے ساتھ ایک مخصوص صورت میں بدکاری کو جائز قرار دیا ہے۔

سوال کی تفصیل: اگر کوئی شخص اپنے عضوِ مخصوصہ پر ریشمی کپڑا یا کوئی غلاف اس طرح لپیٹ لے کہ جماع کے دوران مرد اور عورت کے جسم کا آپس میں براہِ راست ملاپ (Skin to Skin contact) نہ ہو، تو کیا غسل واجب ہوگا؟ اور کیا یہ فعل جائز ہے؟

کتاب "ذخیرۃ المعاد" کا حوالہ اور دھوکہ: اس کتاب میں لکھا ہے کہ "ابو حنیفہ سے منقول ہے کہ محارم کے ساتھ ریشم لپیٹ کر جماع کرنا جائز ہے"۔ حقیقت: اس عبارت کے حاشیہ نگار نے جان بوجھ کر یا کم علمی میں یہاں "ابو حنیفہ" سے مراد اہلسنت کے امام کو لے لیا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ قول شیعہ عالم قاضی نعمان بن محمد مصری کا ہے، جن کا عقیدہ اور مذہب اہلسنت سے بالکل جدا تھا۔ امامِ اعظمؒ کے مسلک میں تو محارم کے ساتھ ایسا سوچنا بھی نکاح پر نکاح اور بدترین معصیت ہے جس کی سزا انتہائی سخت ہے۔


دونوں شخصیات کا تفصیلی تعارف اور علمی موازنہ

ان دونوں کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے، جسے درج ذیل نکات میں سمجھا جا سکتا ہے:

1. ہمارے امام: سیدنا امامِ اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابتؒ

  • پورا نام و نسب: آپ کا نام نعمان بن ثابت بن زوطی ہے، آپ کا تعلق کوفہ (عراق) سے ہے۔

  • زمانہ: آپ تابعین کے دور سے ہیں (سن 80ھ ولادت، 150ھ وصال)۔ آپ نے صحابہ کرامؓ کا دور پایا۔

  • علمی مقام: آپ فقہِ حنفی کے بانی اور مجتہدِ مطلق ہیں۔ آپ کی جلالتِ علمی کا اعتراف امام شافعیؒ نے ان الفاظ میں کیا: "تمام لوگ فقہ میں ابو حنیفہ کے عیال (بچے) ہیں"۔

  • زہد و تقویٰ: آپ نے اپنی پوری زندگی میں کبھی حکومتی عہدہ قبول نہیں کیا، یہاں تک کہ خلیفہ کی طرف سے "قاضی" (جج) بننے کی پیشکش ٹھکرا دی اور قید خانہ میں کوڑے کھانا پسند کیے مگر حق کا دامن نہ چھوڑا۔

2. شیعہ ابو حنیفہ: قاضی نعمان بن محمد مصری

  • پورا نام: ابو حنیفہ نعمان بن محمد القاضی۔

  • مذہبی پس منظر: شیعہ کی معتبر کتابوں "مجالس المومنین" (جلد اول، ص 538) اور "الکنی والالقاب" (اول، ص 57) میں صراحت ہے کہ یہ شخص پہلے مالکی تھا، پھر دنیاوی مفاد یا نظریاتی تبدیلی کی وجہ سے "مذہبِ امامیہ" (شیعہ) میں داخل ہو گیا۔

  • تاریخی گواہی: تاریخ ابن خلکان اور ابن کثیر میں درج ہے کہ یہ شخص فاطمی (عبیدی) سلطنت کا قاضی تھا اور اس کا علمِ فقہ و دین شیعہ اصولوں پر مبنی تھا۔

  • اہلسنت سے عناد: اس نے اپنی کتابوں (مثلاً کتاب الاختلاف، کتاب الاقتصاد) میں امامِ اعظم ابو حنیفہؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کا انتہائی سخت الفاظ میں رد کیا ہے۔ اس کی کتاب "دعائم الاسلام" شیعہ (اسماعیلی) فقہ کا بنیادی ستون مانی جاتی ہے۔


امتیاز کے 6 بنیادی ستون (فرقِ واضع)

ان دونوں شخصیات کے درمیان امتیاز کے لیے یہ 6 نکات ہمیشہ یاد رکھیں:

  1. نسب اور مقام: امامِ اعظم "کوفی" ہیں جبکہ شیعہ ابو حنیفہ "مصری" ہے۔ ایک کا نسب ثابت بن زوطی ہے اور دوسرے کا محمد القاضی۔

  2. عہدہ قضا کا فرق: ہمارے امام ابو حنیفہؒ نے خلیفہ وقت کا عہدہ قضا (Judiciary) ٹھکرا دیا اور جیل چلے گئے، جبکہ شیعہ ابو حنیفہ فاطمی خلفاء کا منظورِ نظر اور "چیف جسٹس" (قاضی القضاۃ) بنا رہا۔

  3. تبدیلی مذہب: شیعہ ابو حنیفہ پہلے مالکی تھا پھر شیعہ ہوا، جبکہ امامِ اعظمؒ خود ایک مستقل مسلک کے بانی اور مجتہدِ مطلق ہیں جن کی تقلید دنیا کی اکثریت کرتی ہے۔

  4. کتب و تصانیف: شیعہ ابو حنیفہ کی تمام کتب (الاخبار، الاقتصاد، دعائم الاسلام) اہلسنت کے ائمہ کی تردید اور شیعہ عقائد کی تائید میں ہیں، جبکہ امامِ اعظمؒ کے شاگردوں نے آپ کی فقہ کو مدون کر کے "فقہِ حنفی" کی بنیاد رکھی۔

  5. زمانہ وفات: امامِ اعظمؒ کا وصال 150 ہجری میں ہوا، جبکہ شیعہ ابو حنیفہ کا وصال 363 ہجری میں ہوا (یعنی امامِ اعظم کے وصال کے 213 سال بعد)۔ یہ وقت کا اتنا بڑا فرق ہے کہ دونوں کو ایک سمجھنا جہالت کی انتہا ہے۔

  6. جغرافیائی فرق: امامِ اعظمؒ کا مرکز کوفہ اور بغداد رہا، جبکہ شیعہ ابو حنیفہ فاطمی خلیفہ معز الدین کے ساتھ مصر گیا اور وہیں اپنی علمی سرگرمیاں جاری رکھیں۔


نتیجہِ بحث

اس پوری تحقیق سے یہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گیا کہ وہ غلیظ اور شرمناک عبارتیں جن کا سہارا لے کر دشمنانِ اسلام امامِ اعظمؒ پر کیچڑ اچھالتے ہیں، ان کا تعلق شیعہ قاضی نعمان مصری سے ہے۔ شیعہ مذہب میں محارم کے حوالے سے ایسی کئی متنازع آراء موجود ہیں، جن کا بوجھ زبردستی اہلسنت کے امام کے سر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

میزان الکتب میں محققِ اسلام علامہ محمد علی نقشبندی علیہ الرحمہ نے اس حقیقت کو کھول کر بیان کر دیا ہے کہ یہ سب "ہم نامی" کا مغالطہ ہے جس سے شیعہ اور غیر مقلدین فائدہ اٹھاتے ہیں۔

جیو اور جینے دو! ہم اپنے ائمہ کی عزت کی حفاظت کرنا جانتے ہیں اور علمی بددیانتی کرنے والوں کو ان کے اصلی چہرے دکھاتے رہیں گے۔


خصوصی نوٹ: یہ مضمون حقائق پر مبنی ہے۔ اگر کسی نے اس کے حوالہ جات یا عبارت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی، تو وہ نہ صرف عوام کی عدالت میں رسوا ہوگا بلکہ اللہ کے حضور سخت ترین عذاب کا مستحق ہوگا۔

Post a Comment

Previous Post Next Post