سلطنتِ عثمانیہ کا آخری چراغ: وہ سلطان جو سائے سے بھی ڈرتا تھا


 تاریخ کے صفحات میں سلطان محمد ششم وحید الدین کا ذکر ایک ایسے حکمران کے طور پر ہوتا ہے جس کے پاس کہنے کو تو تخت تھا، مگر اس تخت کی بنیادیں ریت پر کھڑی تھیں۔ یہ عثمانیوں کی اس عظیم داستان کا آخری اور اداس باب ہے، جہاں شاہی رعب و دبدبے کی جگہ ذاتی خوف اور بے بسی نے لے لی تھی۔ ان کی جیب میں موجود وہ پستول، جس کا ذکر تاریخ میں اکثر ملتا ہے، دراصل ایک ایسی سلطنت کی نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ کی علامت تھا جو اپنے آخری سانسیں لے رہی تھی۔

تخت پر بیٹھتے ہی کانٹوں کا سامنا

4 جولائی 1918 کو جب محمد ششم نے اقتدار سنبھالا، تو ان کے سامنے کوئی پھولوں کی سیج نہیں تھی۔ تین براعظموں پر راج کرنے والی سلطنت اب سمٹ کر محض چند خطوں تک محدود ہو چکی تھی۔ پہلی جنگِ عظیم نے عثمانیوں کی کمر توڑ دی تھی اور اندرونی خلفشار نے رہی سہی کسر نکال دی تھی۔ جب ایک بادشاہ اپنے ہی دارالحکومت میں خود کو اتنا غیر محفوظ سمجھے کہ اسے ہر وقت مسلح رہنا پڑے، تو یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ ریاست کا ڈھانچہ مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔


محل کی دیواریں اور تنہائی کا بچپن

محمد ششم کی زندگی کی تلخیاں بچپن ہی سے شروع ہو گئی تھیں۔ استنبول کے پرشکوہ دولما باغچے محل میں پیدا ہونے والے اس شہزادے نے محض چار برس کی عمر میں یتیمی کا داغ دیکھا۔ والدین کی وفات کے بعد ان کی سوتیلی والدہ شیستہ خانم نے نہایت سختی سے ان کی پرورش کی۔ یہ ماحول اس قدر گھٹن زدہ تھا کہ انہوں نے صرف 16 سال کی عمر میں محل چھوڑ کر اپنی الگ راہ لینے کا فیصلہ کیا۔

محل کی ان دیواروں نے انہیں سیاست سے دور علم و فن کی طرف راغب کر دیا۔ وہ ایک سنجیدہ مزاج انسان تھے جنہیں مطالعے، خطاطی اور موسیقی سے گہرا لگاؤ تھا۔ انہوں نے نہ صرف روایتی ساز 'قانون' بجانے میں مہارت حاصل کی بلکہ فقہ، حدیث اور تفسیرِ قرآن جیسے مذہبی علوم میں بھی کمال پایا۔ ان کی یہ علمی پختگی ہی تھی جس نے انہیں ایک روایتی شہزادے سے الگ شناخت دی۔

بھائی کا سایہ اور سیاسی نظریات

اپنے بڑے بھائی سلطان عبدالحمید ثانی کے 33 سالہ دورِ اقتدار میں محمد ششم ان کے سب سے قریبی ساتھی رہے۔ اسی قربت نے ان کے سیاسی نظریات کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے اپنے بھائی کے خلاف اٹھنے والی 'جوان ترک' تحریک کو قریب سے دیکھا اور ان سے شدید نفرت کرنے لگے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ جرمنوں پر بھی کبھی بھروسہ نہ کر سکے، جو اس وقت کی سیاست میں گہرا اثر رکھتے تھے۔


ولی عہدی سے تخت تک: ایک ناگہانی سفر

1916 میں شہزادہ یوسف عزالدین کی اچانک خودکشی نے محمد ششم کے لیے ولی عہدی کا راستہ صاف کر دیا۔ اس وقت جنگِ عظیم اپنے عروج پر تھی اور سلطنت ہر طرف سے دشمنوں کے نرغے میں تھی۔ جولائی 1918 میں جب سلطان محمد پنجم کا انتقال ہوا، تو تاج و تخت کی بھاری ذمہ داری محمد ششم کے کاندھوں پر آن پڑی۔

اقتدار سنبھالتے ہی انہیں بیک وقت کئی محاذوں پر لڑنا پڑا:

  • اتحادیوں کا دباؤ: جو سلطنت کے پرخچے اڑانے پر تلے تھے۔

  • مصطفیٰ کمال کی تحریک: جو اناطولیہ میں ایک نیا راستہ تلاش کر رہی تھی۔

  • معاشی بحران: جس نے عوام کا جینا محال کر دیا تھا۔

  • ذاتی خوف: جس نے انہیں ہر لمحہ پستول جیب میں رکھنے پر مجبور کیا۔

تخت نشینی کے صرف چار ماہ بعد 30 اکتوبر 1918 کو 'معاہدہ مدروس' پر دستخط کرنا پڑے۔ یہ دستخط دراصل سلطنت کی موت کے پروانے پر دستخط تھے، جس کے بعد اتحادی افواج استنبول میں فاتح بن کر داخل ہوئیں۔


ترکی کی تقسیم: جب ایک ریاست کے دو سربراہ بن گئے

سنہ 1920 تک پہنچتے پہنچتے ترکی کی زمین ایک عجیب سیاسی بیماری کا شکار ہو چکی تھی۔ ملک کے اندر دو متوازی طاقتیں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی تھیں: ایک طرف استنبول میں سلطان محمد ششم کی روایتی اور بظاہر بے بس سلطنت تھی، تو دوسری طرف انقرہ میں مصطفیٰ کمال کی زیرِ قیادت ابھرتی ہوئی 'گرینڈ نیشنل اسمبلی'۔ یہ صرف دو حکومتوں کا نہیں بلکہ دو نظریات کا ٹکراؤ تھا۔

اسی دوران 10 اگست 1920 کو معاہدہ سیوریس (Treaty of Sèvres) سامنے آیا۔ اس معاہدے پر سلطان کی توثیق نے انہیں تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ ناقدین اسے ایک تاریخی غلطی قرار دیتے ہیں جبکہ ان کے حامی اسے ایک ایسی مجبوری سمجھتے ہیں جس کا مقصد استنبول کو مکمل تباہی سے بچانا تھا۔ مگر حقیقت یہی تھی کہ اس معاہدے نے قوم پرستوں کے غصے کو آگ لگا دی اور سلطان کی رہی سہی ساکھ بھی ختم کر دی۔

فرار کا وہ المناک لمحہ: ایمبولینس میں سمٹا ہوا اقتدار

17 نومبر 1922 کی وہ سرد صبح تاریخ کبھی نہیں بھول سکتی۔ وہ سلطان، جس کے آباؤ اجداد نے صدیوں تک دنیا کے وسیع رقبے پر راج کیا تھا، اب اپنی جان چابنے کے لیے بھیس بدل کر ایک برطانوی ایمبولینس میں دبک کر بیٹھا تھا۔ ان کے ساتھ ان کا دس سالہ بیٹا محمد ارتغرل بھی تھا۔ یہ منظر صرف ایک حکمران کا فرار نہیں تھا، بلکہ ایک عظیم الشان سلطنت کے جنازے کی علامتی تصویر تھی۔ برطانوی جنگی جہاز ایچ ایم ایس ملایا (HMS Malaya) اس آخری سلطان کی پناہ گاہ بنا، جو اسے اپنی ہی زمین سے دور لے گیا۔


جلاوطنی اور سان ریمو کی خاموش موت

سلطان کا سفر مالٹا سے ہوتا ہوا اٹلی کے شہر سان ریمو میں جا کر رکا۔ یہاں تاریخ نے ایک تلخ مذاق کیا؛ ایک مسلمان خلیفہ کو اٹلی کے فاشسٹ حکمران بینیٹو موسولینی کی مہمان نوازی اور رحم و کرم پر جینا پڑ رہا تھا۔ یہ جلاوطنی صرف جسمانی نہیں تھی بلکہ ان کے وقار کی موت بھی تھی۔

16 مئی 1926 کو جب محمد ششم نے آخری سانس لی، تو وہ مکمل طور پر ٹوٹ چکے تھے۔ ان کی مالی حالت اس قدر ابتر تھی کہ اطالوی حکام نے واجبات کی عدم ادائیگی پر ان کا تابوت تک ضبط کر لیا۔ یہ ایک سلطان کی بے عزتی کی انتہا تھی۔ آخر کار، انہیں استنبول کے بجائے دمشق میں دفن کیا گیا—وہ شہر جو کبھی ان کی سلطنت کا نگینہ تھا، مگر اب ان کی بے وطنی کا گواہ بن گیا تھا۔

تجزیہ: کیا وہ واقعی غدار تھے یا محض حالات کے مارے ہوئے؟

محمد ششم کی شخصیت پر آج بھی بحث جاری ہے اور اسے تین زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے:

  1. روایتی بیانیہ: انہیں ایک ایسا کمزور اور ڈرپوک حکمران مانا جاتا ہے جس کی غلطیوں نے سلطنت کی تباہی پر مہر ثبت کی۔

  2. تنقیدی نظر: کچھ مؤرخین کے خیال میں ان کے پاس انتخاب کا کوئی راستہ بچا ہی نہیں تھا۔ وہ بین الاقوامی دباؤ اور اندرونی بغاوتوں کے درمیان ایک ایسے قیدی تھے جس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔

  3. نفسیاتی پہلو: ان کی جیب میں ہمیشہ رہنے والا وہ پستول دراصل اس گہرے عدم اعتماد کی علامت تھا جو انہیں اپنے ہی سائے اور اپنے ہی لوگوں سے محسوس ہوتا تھا۔ وہ ایک ایسے دور میں جی رہے تھے جہاں وفاداریاں پل بھر میں بدلتی تھیں اور سازشیں محل کے ہر کونے میں سانس لیتی تھیں۔

سلطان محمد ششم وحید الدین کی کہانی دراصل ایک ایسے انسان کی داستان ہے جو تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر تخت پر بیٹھا جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہ تھا اور زوال اس کا مقدر بن چکا تھا۔

خاندانی زندگی اور محل کی تنہائی: وہ رشتے جنہوں نے تاریخ بدلی

سلطان محمد ششم کی زندگی محل کی جس آسائش اور چہار دیواری میں گزری، وہ درحقیقت ایک سنہری قید تھی۔ ان کی زندگی میں پانچ خواتین یعنی نزاکت خانم، انشراح خانم، مفدت قادین، نوّارہ خانم اور نیوزاد خانم شریکِ حیات بن کر آئیں، مگر ان تمام رشتوں کے باوجود سلطان کی تنہائی کم نہ ہو سکی۔ ان کا صرف ایک بیٹا محمد ارتغرل تھا، جبکہ تین بیٹیاں منیرہ، فاطمہ علویہ اور رقیہ صبیحہ تھیں۔

سلطان کے خاندانی تعلقات محض نجی نہیں تھے بلکہ ان کا گہرا سیاسی اثر تھا۔ خاص طور پر اپنے بھائی سلطان عبدالحمید ثانی سے ان کی قربت نے ان کی پوری حکومتی سوچ کو پروان چڑھایا۔ یہ رشتہ ہی تھا جس کی بنیاد پر انہوں نے اپنی تمام تر پالیسیاں ترتیب دیں، چاہے وہ اندرونی اصلاحات ہوں یا بیرونی دشمنوں سے نمٹنے کا انداز۔

دو تصورات کی جنگ: محمد ششم بمقابلہ مصطفیٰ کمال

ترکی کی تاریخ کا یہ موڑ محض دو شخصیات کا تصادم نہیں تھا بلکہ یہ دو بالکل الگ دنیاؤں کا ٹکراؤ تھا۔ ایک طرف سلطان محمد ششم کی نمائندگی میں وہ روایتی سلطنت تھی جو مذہبی بنیادوں، عالمی خلافت اور صدیوں پرانے تسلسل پر یقین رکھتی تھی۔ دوسری طرف مصطفیٰ کمال اتاترک کی جدید قومی ریاست کا تصور تھا جو سیکولرزم، جدیدیت اور یک قومیتی قومیت پر قائم تھا۔

سلطان کا جیب میں پستول رکھنا دراصل پوری عثمانی سلطنت کی نفسیاتی کیفیت کی علامت تھا۔ یہ ایک ایسی ریاست کی تصویر تھی جو اپنے بیرونی دشمنوں سے زیادہ اپنے اندرونی خوف اور عدم اعتماد کا شکار ہو چکی تھی۔

تاریخ کے بے رحم فیصلے اور کٹھ پتلی کا المیہ

سلطان محمد ششم کی کہانی کسی ایک فرد کا قصہ نہیں بلکہ ایک چھ صدیوں پرانی عظیم الشان سلطنت کے ڈوبنے کا نوحہ ہے۔ ان کا اقتدار، ان کا رات کی تاریکی میں فرار اور جلاوطنی میں کسمپرسی کی موت—یہ سب واقعات بتاتے ہیں کہ وہ ایک ایسی دنیا کے آخری گواہ تھے جو ختم ہو رہی تھی، اور ایک ایسی دنیا کے دہانے پر کھڑے تھے جس میں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔

وہ ایک ایسے درمیانی راستے پر پھنس گئے جہاں نہ وہ مکمل طور پر سلطان رہے اور نہ ہی عام شہری بن پائے۔ ان کی تاریخ کا آخری باب لرزتے ہاتھوں سے لکھا گیا، جہاں قلم پر خوف طاری تھا۔

وہ خوف جس کا علاج پستول میں نہیں تھا

آج ایک صدی گزرنے کے بعد جب ہم ان کا تجزیہ کرتے ہیں تو یہ سوال ابھرتا ہے کہ کیا وہ تاریخ کے شکار تھے یا اس کے خالق؟ حقیقت یہ ہے کہ ان کے معاملے میں "شکار" ہونے کا پہلو زیادہ نمایاں ہے۔ وہ تاریخ کے ہاتھوں میں ایک ایسی کٹھ پتلی تھے جس کی ڈوریں عالمی جنگ کی تباہ کاریوں اور موروثی کمزوریوں نے تھام رکھی تھیں۔

جب وہ کٹھ پتلی ان ڈوروں سے آزاد ہوئی تو سان ریمو کی گلیوں میں ایک بے جان وجود کے سوا کچھ نہ بچا۔ وہ پستول جو وہ حفاظت کے لیے رکھتے تھے، وقت اور تبدیلی کے سامنے بے کار ثابت ہوا۔ ان کا اصل دشمن کوئی انسان نہیں بلکہ وہ بدلتا ہوا وقت تھا جس کا مقابلہ گولی سے نہیں کیا جا سکتا تھا۔ سلطان محمد ششم اس حقیقت کا اعتراف تھے کہ جب وقت کا دھارا بدلتا ہے تو پرانے تخت و تاج اور ان کے محافظ صرف داستانوں کا حصہ بن کر رہ جاتے ہیں۔



Post a Comment

Previous Post Next Post