پاکستان کی عوامی اور سیاسی فضا میں ایک عجیب منطق رواج پا چکی ہے، جہاں ریاست کا ہر فیصلہ، چاہے وہ کتنا ہی حقیقت پسندانہ کیوں نہ ہو، تنقید کی زد میں رہتا ہے۔ یہاں مسئلہ شاید کسی پالیسی کی اچھائی یا برائی کا نہیں بلکہ اس ذہنی رویے کا ہے جو "ہاں" اور "نا" دونوں صورتوں میں ریاست کو ہی مجرم گردانتا ہے۔
دہرا معیار: اقوامِ متحدہ کے مشن اور غزہ کا تنازع
پاکستانی فوج جب اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے غیر مسلم ممالک میں امن کی خاطر جانیں قربان کرتی ہے، تو سب مطمئن نظر آتے ہیں۔ لیکن جب وہی فوج تزویراتی (Strategic) مصلحتوں اور عالمی پیچیدگیوں کے باعث غزہ کی جنگ میں براہِ راست کودنے سے گریز کرتی ہے، تو اچانک جذبات کی لہر بیدار ہو جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا جنگیں صرف نعروں اور سوشل میڈیا ٹرینڈز سے جیتی جاتی ہیں؟
سفارت کاری: کمزوری یا دانشمندی؟
حالیہ دنوں میں غزہ کے معاملے پر قائم ہونے والے "بورڈ آف پیس" میں پاکستان کی شمولیت کو کچھ حلقوں کی جانب سے 'غداری' یا 'امریکہ نوازی' قرار دیا گیا۔ یہ اس طبقے کی ذہنی پسماندگی ہے جو سفارت کاری کو پسپائی سمجھتا ہے۔
حقائق کی دنیا: پاکستان اور اسرائیل اقوامِ متحدہ سمیت کئی عالمی فورمز پر ایک ساتھ موجود ہوتے ہیں۔ وہاں موجودگی کا مقصد اسرائیل کو تسلیم کرنا نہیں بلکہ اپنے دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنا مؤقف پیش کرنا ہے۔
علاقائی موازنہ: ترکی، ایران، مصر اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کے اسرائیل کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر تعلقات یا تجارت موجود ہے، لیکن پاکستان آج بھی اپنے اس اصولی مؤقف پر قائم ہے کہ اسرائیل ایک غاصب ریاست ہے۔ اس کے باوجود، تنقید کا رخ صرف پاکستان کی طرف کیوں؟
افغان مہاجرین کا مسئلہ: مفادِ عامہ یا انسانی حقوق؟
پاکستان نے دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی۔ اس وقت کہا گیا کہ ہم نے "پرائی جنگ" میں کود کر اپنی بنیادیں کھوکھلی کر لیں۔ آج جب ریاست اپنے قوانین کے تحت ان کی واپسی کا فیصلہ کرتی ہے، تو وہی ناقدین اچانک 'انسانی حقوق' کے علمبردار بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ دوہرا معیار ثابت کرتا ہے کہ مسئلہ مہاجرین نہیں بلکہ ریاست کی مخالفت ہے۔
جذباتی نعرے بازی بمقابلہ قومی مفاد
عالمی سیاست میں "خالی کرسی" کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ اگر پاکستان ترکیہ اور دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر سفارتی میز پر نہیں بیٹھے گا، تو وہ نہ صرف فلسطین بلکہ کشمیر جیسے دیرینہ مسائل پر بھی اپنی آواز کمزور کر لے گا۔
جنگیں ہمیشہ میز پر ختم ہوتی ہیں۔
مصر اور اردن جیسے ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے کے باوجود پاکستان کے برادر ملک کہلاتے ہیں، تو پھر پاکستان کی سفارتی کوششوں پر اعتراض کیوں؟
حاصلِ کلام
پاکستان کو اس وقت جذباتی لیکچرز، فتووں یا سوشل میڈیا کے شور کی ضرورت نہیں، بلکہ مضبوط سفارت کاری اور واضح قومی سمت کی ضرورت ہے۔ جو طبقہ ریاست کو ہر حال میں مفلوج دیکھنا چاہتا ہے، وہ دراصل عالمی سیاست کی ابجد سے بھی ناواقف ہے۔ ریاست کے فیصلے انفرادی خواہشات کے تابع نہیں بلکہ قومی بقا اور عالمی مصلحتوں کے تحت ہوتے ہیں۔ پاکستان ان شاء اللہ اپنے آزادانہ فیصلوں کے ساتھ آگے بڑھتا رہے گا اور منفی پراپیگنڈہ کرنے والے ماضی کی طرح مستقبل میں بھی ناکام رہیں گے۔
