حضرت علیؓ کی شجاعت اور من گھڑت روایات کا علمی و منطقی محاسبہ


 کائنات میں انبیاء کے بعد اگر شجاعت اور بہادری کا کوئی استعارہ ہے تو وہ سیدنا علی ابن ابی طالبؓ کی ذاتِ گرامی ہے۔ وہ "اسد اللہ" (اللہ کے شیر) اور "فاتحِ خیبر" ہیں جن کی ہیبت سے بڑے بڑے سورما تھرّاتے تھے۔ لیکن افسوس کہ ایک مخصوص طبقے نے اپنی خود ساختہ روایات کے ذریعے شیرِ خدا کی اس عظیم شخصیت کو (معاذ اللہ) ایک بے بس اور خاموش تماشائی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، جو اپنی جان سے عزیز زوجہ اور دخترِ رسولﷺ، سیدہ فاطمہؓ پر ہونے والے مبینہ مظالم کو دیکھتے رہے اور خاموش رہے۔

آئیے! شیعہ کتب ہی سے ایک ایسا واقعہ پیش کرتے ہیں جو ان کے اپنے ہی اس نظریے کی جڑیں کاٹ دیتا ہے کہ حضرت علیؓ "وصیت" کی وجہ سے خاموش رہے۔

مسجدِ نبوی کا پرنالہ اور حضرت علیؓ کی غیرت

شیعہ کتب میں ایک واقعہ کثرت سے نقل کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کو حکم دیا کہ مسجد کی طرف کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیے جائیں سوائے علیؓ کے دروازے کے۔ اس دوران حضرت عباسؓ (حضورﷺ کے چچا) نے خواہش ظاہر کی کہ ان کے گھر کا ایک پرنالہ (میزاب) مسجد کی طرف رہنے دیا جائے۔ حضورﷺ نے اللہ کے حکم سے اسے برقرار رکھا۔

یہ پرنالہ حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت تک موجود تھا۔ ایک روز بارش کا پانی اس پرنالے سے حضرت عمرؓ کے کپڑوں پر گرا، جس پر انہوں نے جلال میں آکر اسے اکھاڑنے کا حکم دے دیا اور تنبیہ کی کہ جو اسے دوبارہ لگائے گا اس کی گردن مار دی جائے گی۔

ذوالفقار کا جلال اور حضرت عمرؓ کا خوف

جب حضرت عباسؓ روتے ہوئے حضرت علیؓ کے پاس پہنچے اور دہائی دی، تو شیرِ خدا کا جلال دیکھنے کے قابل تھا۔ شیعہ روایات کے مطابق:

  • حضرت علیؓ نے فوراً اپنے غلام قنبر کو آواز دی اور اپنی تلوار ذوالفقار طلب کی۔

  • آپؓ پوری شان و شوکت اور مسلح ہو کر مسجد میں داخل ہوئے اور قنبر کو حکم دیا: "اس پرنالے کو وہیں نصب کر دو جہاں اللہ کے نبیﷺ نے لگایا تھا!"

  • ساتھ ہی آپؓ نے علی الاعلان فرمایا: "قبر اور منبر کی قسم! اگر کسی نے اسے اکھاڑنے کی جرات کی، تو میں اس کی اور اس کا حکم دینے والے کی گردن مار دوں گا اور انہیں عبرت کا نشان بنا دوں گا۔"

روایت کہتی ہے کہ جب حضرت عمرؓ کو اس کا علم ہوا اور انہوں نے حضرت علیؓ کا غیظ و غضب دیکھا، تو وہ خاموش ہو گئے اور مسجد میں آکر پرنالے کو اپنی جگہ دیکھ کر کہا: "کوئی علیؓ کو غصہ نہ دلائے۔"


ایک بنیادی سوال: پرنالہ یا دخترِ رسولﷺ؟

اب یہاں عقل و دانش کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان متضاد بیانیوں کا موازنہ کریں:

  1. پہلا تضاد (وصیت کا بہانہ): اگر (بقول شیعہ ذاکرین) نبیﷺ نے علیؓ کو وصیت کی تھی کہ "تمہارے سامنے تمہاری بیوی ماری جائے، گھر کو آگ لگائی جائے لیکن تم نے تلوار نہیں اٹھانی"، تو پھر ایک لکڑی کے پرنالے کے لیے علیؓ نے ذوالفقار کیوں اٹھائی؟ کیا پرنالہ سیدہ فاطمہؓ کی حرمت سے زیادہ اہم تھا؟

  2. دوسرا تضاد (خلافت کا رعب): شیعہ روایت کے مطابق یہ واقعہ حضرت عمرؓ کی خلافت کے عروج کا ہے جب ان کی ہیبت سے قیصر و کسریٰ کانپتے تھے۔ اگر علیؓ اس وقت علی الاعلان خلیفہ وقت کی گردن اڑانے کی دھمکی دے سکتے تھے، تو وہ اس وقت کیوں خاموش رہے جب (بقول تمہارے) ان کے گھر پر حملہ ہوا تھا؟

  3. تیسرا تضاد (بہادری کا معیار): ایک طرف تم کہتے ہو کہ علیؓ نے پرنالے کے لیے پوری زمین کے لوگوں سے لڑنے کا اعلان کیا، دوسری طرف تم ان کی تصویر ایک ایسے شخص کی بناتے ہو جو اپنی مظلوم بیوی کی پکار پر بھی خاموش رہا۔

حقیقت یہ ہے کہ: حضرت علیؓ بزدل نہیں تھے، بلکہ وہ واقعہ (گھر کو آگ لگانا یا سیدہ فاطمہؓ پر تشدد) سرے سے ہوا ہی نہیں تھا۔ یہ محض کوفیوں اور سازشیوں کی من گھڑت کہانیاں ہیں تاکہ صحابہ کرامؓ کے درمیان نفرت کے بیج بوئے جائیں۔

نتیجہ و فیصلہ

سنی کتب تو حضرت علیؓ کی شجاعت سے بھری پڑی ہیں، لیکن شیعہ کتب کا یہ تضاد ثابت کرتا ہے کہ:

  • حضرت علیؓ کبھی بزدل نہیں تھے۔

  • حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ کے تعلقات ایسے نہ تھے جیسا دشمنانِ اسلام پیش کرتے ہیں۔

  • اگر حضرت علیؓ کے سامنے سیدہ فاطمہؓ پر ادنیٰ سی آنچ بھی آتی، تو وہ ذوالفقار جو پرنالے کے لیے نکل سکتی تھی، وہ دخترِ رسولﷺ کے لیے پوری کائنات کو الٹ دیتی۔

صحابہ و اہل بیتؓ کی توہین پر مبنی یہ جھوٹے قصے درحقیقت حضرت علیؓ کی توہین ہیں۔ ہمارا مقصد ان پاک ہستیوں کے حقیقی مقام و مرتبے کا دفاع کرنا ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post