دنیا بھر کے مسلمانوں کا اس بات پر کامل ایمان ہے کہ موجودہ قرآن مجید وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے جبرائیل امین کے ذریعے نبی کریم ﷺ پر نازل فرمایا۔ تاہم، جب ہم اہل تشیع کی بنیادی کتب (کتب اربعہ) کا مطالعہ کرتے ہیں، تو وہاں ایسے نظریات ملتے ہیں جو قرآن کی تکمیل اور اس کی موجودہ حالت پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ زیر نظر مضمون میں عقیدہ تحریف، شجرہ ملعونہ کی حقیقت اور شیعہ کتب کے تضادات کا علمی جائزہ لیا گیا ہے۔
الف۔ قرآن کی جانبداری اور کتبِ اربعہ کا نظریہ
اہل تشیع کی جانب سے اکثر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اہل سنت کی کتب میں بھی ایسی روایات موجود ہیں جو تحریف کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ اہل سنت کی کتب میں کہیں بھی "تحریفِ قرآن" کا باب موجود نہیں ہے۔
اہل سنت کی معتبر کتب میں موجود روایات کی حقیقت درج ذیل ہے:
صحیح بخاری (4725): اس میں قرات کے اختلاف کا ذکر ہے، تحریف کا نہیں۔
صحیح بخاری (4977): حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی معوذتین والی روایت کا تعلق ان کی اپنی رائے سے تھا، جسے بعد میں اجماعِ صحابہ نے
واضح کر دیا۔
ابن ماجہ (1944): رضاعتِ کبیر اور بکری والی روایت کا جواب صحیح بخاری کے "باب جمع القرآن" (4986 اور 4987) سے ہو جاتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ: خلفائے راشدین (حضرت ابوبکر و عثمان غنی رضی اللہ عنہما) نے تمام صحابہ کرام اور اہل بیت کے اجماع سے ایک مکمل قرآن اکٹھا کر کے امت کو دے دیا، جس پر سب کا اتفاق ہے۔
ب۔ شیعہ کتب میں تحریفِ قرآن کے حوالہ جات (اصولِ کافی)
اہل تشیع کی مستند ترین کتاب "اصولِ کافی" میں ایسی روایات موجود ہیں جو موجودہ قرآن کو نامکمل قرار دیتی ہیں:
| حوالہ نمبر | روایت کا متن اور مفہوم |
| روایت 1 | امام جعفر صادق سے روایت ہے کہ جبرائیل جو قرآن لائے تھے اس کی 17,000 آیات تھیں۔ (موجودہ قرآن میں آیات اس سے کہیں کم ہیں)۔ |
| روایت 2 | امام جعفر صادق فرماتے ہیں: "ہمارے پاس مصحفِ فاطمہ ہے، جو تمہارے اس قرآن سے تین گنا بڑا ہے اور اس میں تمہارے قرآن کا ایک حرف بھی نہیں"۔ |
| روایت 3 | ابی بصیر کی روایت کے مطابق بھی قرآن 17,000 آیات پر مشتمل تھا۔ |
| روایت 4 | قرآن چار حصوں میں نازل ہوا: ایک چوتھائی ہمارے (اہل بیت) بارے میں، ایک چوتھائی دشمنوں کے بارے میں، ایک چوتھائی سنن و امثال اور ایک چوتھائی فرائض و احکام۔ |
سوال: اگر ان کی اپنی کتب کے مطابق یہ قرآن نامکمل ہے، تو وہ اسے کیوں مانتے ہیں؟ کیا یہ محض "تقیہ" ہے؟ ان کے بڑے علماء (شیخ صدوق، مفید، مرتضیٰ، طوسی) اسے مکمل تو کہتے ہیں، مگر اپنی کتب کی روایات سے یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ یہ قرآن کس ہستی نے اکٹھا کر کے انہیں دیا۔
ج۔ شجرہ ملعونہ کی قرآنی و نبوی تفسیر
قرآن مجید میں "شجرہ ملعونہ" (لعنت زدہ درخت) کا ذکر آیا ہے، جس کی تفسیر میں اہل تشیع اکثر بنو امیہ کو نشانہ بناتے ہیں، جبکہ احادیثِ صحیحہ اس کی حقیقت کچھ اور بتاتی ہیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْآنِ..." (سورہ اسراء: 60)
ترجمہ: "اور ہم نے اس نظارے کو جو آپ کو دکھایا لوگوں کے لیے آزمائش بنایا اور اس ملعون درخت کو بھی جس کا ذکر قرآن میں ہے..."
احادیث کی روشنی میں تفسیر:
صحیح بخاری (4716): اس سے مراد زقوم (تھوہڑ) کا درخت ہے جو جہنم کی تہہ میں اگتا ہے۔ یہ شبِ معراج کا مشاہدہ تھا نہ کہ کوئی سیاسی خاندان۔
جامع ترمذی (3134): حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ نظارہ تھا جو آپ ﷺ کو بیت المقدس کی سیر کے دوران کرایا گیا اور شجرہ ملعونہ سے مراد زقوم کا درخت ہے۔
جامع ترمذی (2585): نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اگر زقوم کا ایک قطرہ دنیا میں گر جائے تو اہل زمین کی زندگی اجیرن ہو جائے"۔
د۔ اہل تشیع کا تضاد: منکرِ حدیث اور اہل سنت کی کتب کا سہارا
ایک طرف اہل تشیع موجودہ قرآن کی جمع آوری پر معترض ہیں، دوسری طرف ان کے پاس نبی کریم ﷺ کی احادیث کا اپنا کوئی مستند مجموعہ نہیں جس سے وہ قرآن کی آیات کی شانِ نزول یا احکام اخذ کر سکیں۔
بے شرمی کی انتہا: یہ لوگ اہل بیت کے فضائل، قرآن کی تفسیر اور شانِ نزول کے لیے اہل سنت کی کتب سے حوالے دیتے ہیں۔
منافقت: جب ان سے ان کی کتب کے بارے میں پوچھا جائے تو "تقیہ" کا سہارا لیتے ہیں، اور جب دوسروں پر الزام لگانا ہو تو انہی کی کتب کو حجت مانتے ہیں۔
نتیجہ:
تاریخی حقائق اور ان کی اپنی کتب کی روایات گواہ ہیں کہ یہ گروہ (جنہیں شجرہ ملعونہ سے تشبیہ دی جا سکتی ہے) اسلام کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے میں مصروف رہا ہے۔ یہ اہل بیت کی محبت کا لبادہ اوڑھ کر درحقیقت دینِ اسلام کے خلاف ایک سازش ہے۔ ان کا مقصد قرآن کی حجیت کو مشکوک بنانا اور مسلمانوں میں انتشار پھیلانا ہے۔
