ڈاکٹر سمیرہ موسیٰ: وہ عظیم سائنسدان جس کے خوابوں کا گلا گھونٹ دیا گیا

 


تاریخ کے صفحات میں کچھ ایسی شخصیات کا ذکر ملتا ہے جن کی زندگی تو مختصر تھی، لیکن ان کے ارادے اور تحقیق انسانیت کا رخ موڑنے کی طاقت رکھتے تھے۔ انہی میں سے ایک نام ڈاکٹر سمیرہ موسیٰ کا ہے، جنہیں "مصر کی ایٹمی ملکہ" اور "پہلی مسلمان خاتون ایٹمی سائنسدان" ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اگر وہ زندہ رہتیں تو شاید آج کینسر کا علاج کسی درد کش گولی جتنا سستا اور ایٹمی توانائی غریب ممالک کی دسترس میں ہوتی۔

ابتدائی زندگی اور کینسر کے خلاف جنگ کا عزم

سمیرہ موسیٰ 1917 میں مصر کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئیں۔ ان کی زندگی میں پہلا بڑا موڑ اس وقت آیا جب ان کی والدہ کینسر کے موذی مرض کے باعث انتقال کر گئیں۔ اس صدمے نے سمیرہ کے ننھے سے دل میں ایک ایسا بیج بویا جس نے آگے چل کر ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر لی۔ انہوں نے عہد کیا کہ وہ اپنی تعلیم کو اس مرض کی بیخ کنی کے لیے استعمال کریں گی تاکہ کسی اور کی ماں بے بسی کی موت نہ مرے۔ ان کا مشہور قول تھا:

"میں ایٹمی علاج کو اتنا سستا بنانا چاہتی ہوں جتنا کہ اسپرین کی ایک گولی۔"

تعلیمی سفر اور عالمی اعزازات

سمیرہ موسیٰ نے قاہرہ یونیورسٹی سے انجینئرنگ اور ریڈیالوجی میں ڈگری حاصل کی۔ ان کی قابلیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے برطانیہ سے جوہری تابکاری (Nuclear Radiation) میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور وہ پہلی خاتون بنیں جنہوں نے اس شعبے میں اس قدر مہارت حاصل کی۔

ان کی تحقیق کا سب سے اہم پہلو "سستی دھاتوں سے ایٹم توڑنا" تھا۔ انہوں نے ایسی مساوات (Equations) وضع کیں جن کی مدد سے تانبے جیسی سستی دھاتوں سے ایٹمی توانائی پیدا کرنا ممکن ہو رہا تھا۔ یہ ایک ایسا انقلاب تھا جو ایٹمی ٹیکنالوجی پر عالمی طاقتوں کی اجارہ داری کو ختم کر سکتا تھا۔

امریکی دورہ اور شہریت کی پیشکش

1950 میں سمیرہ موسیٰ کو 'فل برائٹ اسکالرشپ' کے تحت امریکہ کی سینٹ لوئس یونیورسٹی مدعو کیا گیا۔ وہ پہلی غیر ملکی سائنسدان تھیں جنہیں امریکہ کے حساس جوہری مراکز کے دورے کی اجازت دی گئی۔ ان کی ذہانت کو بھانپتے ہوئے امریکہ نے انہیں شہریت اور پرکشش مراعات کی پیشکش کی تاکہ وہ وہیں رہ کر کام کریں، مگر وطن پرستی ان کے خون میں شامل تھی۔ انہوں نے یہ کہہ کر پیشکش ٹھکرا دی: "میرا ملک مصر میرا انتظار کر رہا ہے، میں واپس جانا چاہتی ہوں۔"


وہ تین کام جو ادھورے رہ گئے

مورخین اور سائنسی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر سمیرہ موسیٰ زندہ رہتیں یا انہیں زندہ رہنے دیا جاتا تو دنیا میں تین بڑے انقلاب برپا ہوتے:

  1. ایٹمی دفاع میں انقلاب: مسلم دنیا ایٹمی دفاع کے حوالے سے خود کفیل ہو جاتی اور طاقت کا توازن تبدیل ہو جاتا۔

  2. طبی تاریخ کی تبدیلی: ایٹمی پروگرام کو تباہی کے بجائے انسانی فلاح کے لیے استعمال کر کے طب کے میدان میں نئی جہتیں متعارف ہوتیں۔

  3. کینسر کا سستا علاج: کینسر جیسے مہنگے اور جان لیوا مرض کا علاج ایک عام انسان کی پہنچ میں ہوتا اور اس کا خرچ ایک معمولی گولی جتنا رہ جاتا۔


5 اگست 1952: ایک سیاہ دن اور پرسرار موت

جب سمیرہ موسیٰ نے مصر واپسی کی تیاری مکمل کر لی، تو انہیں کیلیفورنیا کے ایک جوہری ریسرچ سینٹر کے دورے کی دعوت دی گئی۔ 5 اگست 1952 کو وہ اپنی گاڑی میں روانہ ہوئیں، لیکن راستے میں ایک گہری وادی میں ان کی گاڑی گر کر تباہ ہو گئی۔

یہ حادثہ انتہائی پرسرار تھا:

  • گاڑی چلانے والا ڈرائیور موقع سے غائب ہو گیا اور دوبارہ کبھی نہ ملا۔

  • ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا کہ ڈرائیور نے گاڑی کھائی میں گرنے سے پہلے ہی چھلانگ لگا دی تھی۔

  • کئی حلقوں کا ماننا ہے کہ یہ محض حادثہ نہیں بلکہ ایک منظم قتل تھا تاکہ تیسری دنیا کے ممالک کو ایٹمی ٹیکنالوجی سے دور رکھا جا سکے۔

نتیجہ

ڈاکٹر سمیرہ موسیٰ کی موت صرف ایک فرد کی موت نہیں تھی، بلکہ وہ انسانیت کی فلاح اور مسلم دنیا کی سائنسی ترقی کے ایک سنہری دور کا اختتام تھا۔ ان کی قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ علم کی راہ میں دی جانے والی جانیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں، اور آج بھی ان کی تحقیقات کینسر کے خلاف جاری جنگ میں ایک مشعلِ راہ ہیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post