ماہِ شعبان: حقیقت، فضیلت اور مسنون اعمال

  

ماہِ شعبان اسلامی سال کا وہ اہم مہینہ ہے جو رمضان المبارک کی آمد کا پیش خیمہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ہمسفر بننے کے لیے لازم ہے کہ آپ ﷺ کی سنتوں اور احادیث پر مکمل عمل کیا جائے۔ تاہم، دین میں مراتب کا خیال رکھنا ضروری ہے؛ سب سے پہلے فرائض، پھر واجبات، پھر سنن اور اس کے بعد نفلی عبادت کا درجہ آتا ہے۔

فرائض کی اہمیت اور مغالطوں کا ازالہ

آج کل ایک عام رجحان بن گیا ہے کہ فرض نمازیں اور روزے چھوڑنے والوں کو یہ کہہ کر تسلی دی جاتی ہے کہ تم بس 27 رجب، 15 شعبان یا 27 رمضان کو عبادت کر لو تو بخشے جاؤ گے۔ یاد رکھیے! یہ ایک کھلا دھوکہ ہے۔ اللہ کے ہاں فرائض کا کوئی نعم البدل نہیں۔ جو شخص فرض نمازیں جان بوجھ کر چھوڑتا ہے، وہ محض چند راتوں کے قیام سے اپنی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہو سکتا۔

شعبان میں روزوں کی کثرت (سنتِ نبوی ﷺ)

رسول اللہ ﷺ شعبان کے مہینے میں کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے۔ عام طور پر میڈیا یا سماجی حلقوں میں ان روزوں کا ذکر اس لیے کم ہوتا ہے کیونکہ یہ نفلی ہیں اور عوام کی اکثریت فرائض میں کوتاہی کی وجہ سے ان کی طرف مائل نہیں ہوتی۔ لیکن افضل و اعلیٰ وہ لوگ ہیں جو اس ماہ کی برکتوں کو سمیٹتے ہوئے اپنی ہمت کے مطابق 5 یا 10 روزے رکھ لیں۔

افضل عمل: عوام کے لیے سب سے افضل کام یہ ہے کہ وہ اپنی فرض نمازوں اور روزوں کی پابندی کے ساتھ ساتھ گناہوں کی رفتار کو کم کریں اور نیکیوں کی رفتار بڑھا دیں۔ اگر کوئی اس ماہ میں نفلی عبادت نہ بھی کر سکے تو گناہ نہیں، لیکن اتباعِ سنت کا تقاضا یہی ہے کہ اس ماہ میں کثرت سے روزے رکھے جائیں (سوائے شعبان کی آخری تاریخوں کے جنہیں شک کے روزے کہا جاتا ہے)۔


احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں ماہِ شعبان کی فضیلت

ذیل میں وہ مستند احادیث درج ہیں جو اس ماہ کی عظمت پر دلالت کرتی ہیں:

1۔ برکت کی دعا: جب رمضان کا مہینہ آنا ہوتا تو رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے:

"اے اللہ! ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچا۔" (مشکوۃ المصابیح 1396)

2۔ چاند کی حفاظت: رمضان کی تیاری کے حوالے سے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"شعبان کے چاند (تاریخوں) کو خوب اچھی طرح محفوظ رکھو تاکہ رمضان کا حساب ہو سکے۔" (ترمذی 687)

3۔ کثرتِ صیام (سیدہ عائشہؓ کی گواہی): سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

"حضور ﷺ جب روزے رکھنا شروع فرماتے تو ہم کہتے کہ آپ ﷺ اب روزہ رکھنا ختم نہ کریں گے اور جب کبھی آپ ﷺ روزہ نہ رکھنے پہ آتے تو ہم یہ کہتے کہ آپ ﷺ اب روزہ کبھی نہ رکھیں گے۔ میں نے حضور ﷺ کو رمضان شریف کے علاوہ کسی اور مہینہ کے مکمل روزے رکھتے نہیں دیکھا اور میں نے حضور ﷺ کو شعبان کے علاوہ کسی اور مہینہ میں کثرت سے روزہ رکھتے نہیں دیکھا۔" (صحیح بخاری 1969، صحیح مسلم 1156)

4۔ شعبان کے اکثر روزے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک اور روایت ہے:

"میں نے حضور ﷺ کو کسی مہینہ میں شعبان کے مہینہ سے زیادہ روزے رکھتے نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ کچھ دنوں کے علاوہ پورے شعبان کے روزے رکھتے، بلکہ آپ ﷺ تو پورے شعبان کے روزے رکھا کرتے تھے۔" (ترمذی 736، نسائی 2180)

5۔ شعبان میرا مہینہ ہے: حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے:

"ماہِ رمضان اﷲ تعالیٰ کا مہینہ ہے، اور ماہِ شعبان میرا مہینہ ہے، شعبان (گناہوں سے) پاک کرنے والا ہے اور رمضان (گناہوں کو) ختم کر دینے والا مہینہ ہے۔" (کنزالعمال: 23685)

6۔ محبوب ترین مہینہ: نبی کریم ﷺ کے معمول کے بارے میں مروی ہے:

"رسول ﷲ ﷺ کو تمام مہینوں میں سے شعبان کے روزے رکھنا زیادہ محبوب تھا۔ آپ ﷺ شعبان (کے روزوں) کو رمضان المبارک کے ساتھ ملا دیا کرتے تھے۔" (مسند احمد 25589)


خلاصہ: ماہِ شعبان غفلت کا مہینہ نہیں بلکہ تیاری کا مہینہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ فرائض کی ادائیگی کو یقینی بناتے ہوئے ان ایام میں کثرتِ استغفار اور روزوں کا اہتمام کریں تاکہ رمضان المبارک کا استقبال بھرپور ایمانی قوت کے ساتھ کیا جا سکے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post