مشرقی ترکستان: تاریخ، شناخت اور جبر کی داستان

 

مشرقی ترکستان، جسے موجودہ جغرافیائی نقشے پر چین "سنکیانگ" کے نام سے پکارتا ہے، محض ایک خطہ نہیں بلکہ ایک عظیم تہذیب اور تاریخ کا امین ہے۔ تقریباً 1.7 ملین مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا یہ علاقہ چین کے کل رقبے کا پانچواں حصہ بنتا ہے۔ اپنی تزویراتی اہمیت اور قدرتی وسائل کی وجہ سے یہ خطہ ہمیشہ سے اہمیت کا حامل رہا ہے، لیکن گزشتہ کئی دہائیوں سے یہاں کے باسی، خاص طور پر ایغور مسلمان، اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

تاریخ اور اسلامی شناخت کا پس منظر

مشرقی ترکستان میں اسلام کی آمد پہلی صدی ہجری میں عظیم سپہ سالار قتیبہ بن مسلم کے ذریعے ہوئی۔ تاہم، اس خطے کی اسلامی شناخت کو اس وقت مزید استحکام ملا جب چوتھی صدی ہجری میں وہاں کے حکمران ستوق بگڑا خان نے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد یہ خطہ دس صدیوں سے زائد عرصے تک ایک آزاد اسلامی ریاست کے طور پر قائم رہا۔ یہاں کے رہنے والے ایغور مسلمان ترکی زبان بولتے ہیں اور صدیوں سے عربی رسم الخط میں لکھتے آ رہے ہیں، جو ان کے گہرے اسلامی اور ثقافتی تعلق کا ثبوت ہے۔

قبضے کی تاریخ اور آزادی کی تڑپ

مشرقی ترکستان پر چینی تسلط کی کوششیں پرانی ہیں۔ پہلا چینی قبضہ 1759ء میں ہوا، جس کے بعد 1881ء میں دوبارہ اسے نشانہ بنایا گیا۔ لیکن ایغور مسلمانوں نے کبھی ہار نہیں مانی۔ 1933ء میں کاشغر کو مرکز بنا کر "اسلامی جمہوریہ مشرقی ترکستان" کے قیام کا اعلان کیا گیا، مگر عالمی سیاست اور علاقائی سازشوں کی وجہ سے یہ خواب زیادہ دیر تک شرمندہ تعبیر نہ رہ سکا اور 1949ء میں کمیونسٹ افواج نے دوبارہ اس خطے پر قبضہ کر کے اسے سوشلسٹ نظام کے ماتحت کر دیا۔

مذہبی اور ثقافتی پابندیاں

1949ء کے بعد سے اس خطے میں مذہبی آزادیوں پر بتدریج پابندیاں لگائی گئیں۔ موجودہ دور میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے:

  • مذہبی شعائر پر پابندی: مساجد کو بند کرنا یا انہیں سیاحتی مراکز میں تبدیل کرنا معمول بن چکا ہے۔

  • عبادات کی ممانعت: ماہِ رمضان میں روزہ رکھنے، حج پر جانے اور داڑھی رکھنے پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔

  • ناموں پر قدغن: بچوں کے اسلامی نام جیسے "محمد" یا "اسلام" رکھنے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔

  • حجاب اور نقاب: خواتین کے نقاب اوڑھنے کو انتہا پسندی سے تعبیر کر کے اسے جرم قرار دے دیا گیا ہے۔

معاشی استحصال اور آبادیاتی تبدیلی

مشرقی ترکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ چین کے 25 فیصد تیل اور 28 فیصد گیس کے ذخائر یہیں سے نکلتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ علاقہ سونا، کوئلہ اور یورینیم جیسی معدنیات کا بھی بڑا ذریعہ ہے۔ اس بے پناہ دولت کے باوجود، ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ 80 فیصد ایغور مسلمان غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔

دوسری جانب، چین نے ایک منظم پالیسی کے تحت ہان نسل کے چینیوں کو یہاں آباد کرنا شروع کیا تاکہ خطے کا تناسب بدلا جا سکے۔ 1949ء سے پہلے یہاں مسلمانوں کی آبادی 97 فیصد تھی، جو اب کم ہو کر 40 فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔

"جڑواں رشتہ داری" اور انسانی حقوق کی پامالی

انسانی حقوق کی سب سے زیادہ تشویشناک خلاف ورزی "جڑواں رشتہ داری" (Twin Kinship) نامی پالیسی ہے، جس کے تحت چینی کمیونسٹ پارٹی کے ملازمین کو ایغور مسلمانوں کے گھروں میں رہنے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف گھر کی پرائیویسی کو ختم کرتا ہے بلکہ اس کا مقصد ایغور خاندانوں کی نگرانی کرنا اور ان کی مذہبی و ثقافتی شناخت کو مٹانا ہے۔

عالمی خاموشی: ایک المیہ

اس قدر شدید انسانی بحران اور بنیادی حقوق کی پامالی کے باوجود، عالمی برادری اور بین الاقوامی ادارے اب تک کوئی ٹھوس کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ چین کے معاشی اثر و رسوخ کی وجہ سے نہ تو کوئی موثر پابندی لگائی گئی اور نہ ہی اس خطے کو بین الاقوامی تحفظ فراہم کیا گیا۔



معاشی وسائل

مشرقی ترکستان (سنکیانگ) کو اگر "چین کا معاشی انجن" کہا جائے تو یہ مبالغہ نہ ہوگا۔ یہ خطہ نہ صرف اپنی وسعت کی وجہ سے اہم ہے بلکہ اپنی زمین کے اندر چھپے خزانوں کی وجہ سے چین کی معیشت اور بقا کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

ذیل میں اس خطے کے معاشی وسائل کی تفصیلی وضاحت دی گئی ہے:

الف۔ توانائی کے بے پناہ ذخائر

مشرقی ترکستان چین کے لیے توانائی کا سب سے بڑا مرکز ہے۔

  • تیل (Oil): یہاں چین کے کل پیٹرولیم ذخائر کا تقریباً 25% پایا جاتا ہے۔ تارم بیسن (Tarim Basin) چین کے چند بڑے تیل پیدا کرنے والے علاقوں میں سے ایک ہے۔

  • قدرتی گیس : چین کی کل گیس کا تقریباً 28% اسی خطے سے حاصل ہوتا ہے۔ چین کی مشہور "مغربی سے مشرقی گیس پائپ لائن" (West-East Gas Pipeline) یہیں سے شروع ہوتی ہے جو ہزاروں کلومیٹر دور شنگھائی جیسے ساحلی شہروں کو گیس فراہم کرتی ہے۔

ب۔ معدنیاتی دولت

چین میں پائی جانے والی 171 اقسام کی معدنیات میں سے 138 اقسام اکیلے مشرقی ترکستان میں موجود ہیں۔

  • کوئلہ: یہاں کوئلے کے اتنے بڑے ذخائر ہیں جو چین کی کل ضرورت کا 40% پورا کر سکتے ہیں۔

  • یورینیم اور سونا: یہ خطہ یورینیم کے ذخائر سے مالا مال ہے، جو چین کے ایٹمی پروگرام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں سونے کی بڑی کانیں بھی موجود ہیں۔

  • نایاب دھاتیں (Rare Earth Elements): جدید ٹیکنالوجی، اسمارٹ فونز اور الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریوں میں استعمال ہونے والی نایاب دھاتیں یہاں وافر مقدار میں پائی جاتی ہیں۔

ج۔ "سفید سونا" اور زراعت

مشرقی ترکستان کی زمین زراعت کے لحاظ سے بھی نہایت زرخیز ہے:

  • کپاس (Cotton): یہ خطہ عالمی سطح پر کپاس کی پیداوار کا ایک بڑا مرکز ہے۔ دنیا کی کل کپاس کا تقریباً 20% اور چین کی کپاس کا 85% سے زائد حصہ یہیں پیدا ہوتا ہے۔ اسے اپنی معیار کی وجہ سے "سفید سونا" کہا جاتا ہے۔

  • پھل: یہاں کے انگور، خربوزے اور ناشپاتیاں اپنی مٹھاس کی وجہ سے پوری دنیا (خاص کر وسطی ایشیا) میں مشہور ہیں۔

د۔ ون بیلٹ ون روڈ

مشرقی ترکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع اسے چین کے "ون بیلٹ ون روڈ" منصوبے کا گیٹ وے بناتا ہے۔

  • یہ خطہ چین کو وسطی ایشیا، یورپ اور پاکستان (CPEC کے ذریعے) سے جوڑنے کا واحد راستہ ہے۔

  • تمام زمینی تجارتی راستے اور ریلوے لائنیں اسی خطے سے گزرتی ہیں، جس کے بغیر چین کا عالمی تجارتی غلبہ ممکن نہیں۔

ہ۔ معاشی تضاد: دولت اور غربت کا ساتھ

اتنے وسائل کے باوجود، مقامی ایغور مسلمانوں کی معاشی حالت ابتر ہے۔ اس کی بڑی وجوہات یہ ہیں:

  • بڑی کمپنیوں کا کنٹرول: تمام تیل، گیس اور معدنیاتی منصوبے سرکاری چینی کمپنیوں (جیسے CNPC) کے قبضے میں ہیں، جہاں ملازمتوں میں ہان چینیوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔

  • پیداواری مراکز: کپاس اور دیگر خام مال یہاں سے نکال کر مشرقی چین کی فیکٹریوں میں بھیجا جاتا ہے، جس کی وجہ سے مقامی سطح پر صنعتی ترقی کم ہوتی ہے۔

  • بنگتویان (XPCC): یہ ایک نیم فوجی معاشی تنظیم ہے جو خطے کے بڑے حصے اور وسائل پر قابض ہے، جس کا مقصد معیشت کے ذریعے سیاسی کنٹرول برقرار رکھنا ہے۔

مشرقی ترکستان کی معاشی دولت ہی وہ سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر چین اس خطے پر اپنی گرفت کسی قیمت پر ڈھیلی نہیں کرنا چاہتا۔


تاریخی جنگیں

مشرقی ترکستان کی تاریخ مسلسل جدوجہد، عظیم سلطنتوں کے ٹکراؤ اور آزادی کی تڑپ سے بھری ہوئی ہے۔ اس خطے نے صدیوں تک بیرونی حملہ آوروں (خاص طور پر چینی شاہی خاندانوں اور منگولوں) کے خلاف مزاحمت کی ہے۔

ذیل میں مشرقی ترکستان میں ہونے والی بڑی تاریخی جنگوں اور انقلابات کی تفصیل دی گئی ہے:

الف۔ ابتدائی اسلامی فتوحات اور قرہ خانی دور

اسلام کی آمد کے بعد یہ خطہ ایک مضبوط اسلامی قلعہ بن گیا۔

  • قتیبہ بن مسلم کی پیش قدمی (715ء): اموی دور میں قتیبہ بن مسلم نے کاشغر تک رسائی حاصل کی، جس نے خطے میں چینی اثر و رسوخ (تانگ خاندان) کو چیلنج کیا۔

  • جنگِ تلاس (751ء): یہ تاریخ کی اہم ترین جنگوں میں سے ایک ہے جہاں عباسیوں اور ان کے اتحادیوں نے چینی فوج کو شکست دے کر وسطی ایشیا سے چینی اثر و رسوخ کا خاتمہ کر دیا، جس کے بعد مشرقی ترکستان مکمل طور پر اسلامی تہذیب کا حصہ بن گیا۔

ب۔ چنگ خاندان کے خلاف مزاحمت (1759ء)

چینیوں نے 1759ء میں مانچو (Ching) سلطنت کے دور میں اس خطے پر پہلا بڑا قبضہ کیا۔

  • خواجگان کی تحریک: کاشغر کے مذہبی اور سیاسی رہنماؤں (جنہیں 'خواجہ' کہا جاتا تھا) نے چینی قبضے کے خلاف طویل گوریلا جنگ لڑی۔ اس دوران دسیوں بار بغاوتیں ہوئیں جنہیں چینیوں نے بے دردی سے کچلا۔

ج۔ یعقوب بیگ کی ریاست اور آزادی کی جنگ (1864ء–1877ء)

یہ مشرقی ترکستان کی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے جب مسلمانوں نے چینیوں کو نکال کر اپنی آزاد ریاست قائم کی۔

  • بغاوت: 1864ء میں پورے خطے میں چینیوں کے خلاف زبردست بغاوت پھوٹ پڑی۔

  • کاشغریہ کی ریاست: محمد یعقوب بیگ نے ایک منظم فوج بنائی اور تقریباً پورے مشرقی ترکستان کو آزاد کرا لیا۔ اس ریاست کو اس وقت کی خلافتِ عثمانیہ، برطانیہ اور روس نے تسلیم کیا۔ عثمانی سلطان نے یعقوب بیگ کو "امیر المومنین" کا خطاب بھی دیا۔

  • خاتمہ: یعقوب بیگ کی وفات کے بعد 1877ء میں چین نے ایک بار پھر بڑے پیمانے پر حملہ کیا اور لاکھوں مسلمانوں کے قتلِ عام کے بعد دوبارہ قبضہ کر لیا۔ اسی وقت اس کا نام بدل کر "سنکیانگ" (نیا مقبوضہ علاقہ) رکھا گیا۔

د۔ پہلی جمہوریہ مشرقی ترکستان (1933ء)

بیسویں صدی کے آغاز میں جب چین میں بادشاہت ختم ہوئی، ایغور مسلمانوں نے ایک بار پھر آزادی کا علم بلند کیا۔

  • کاشغر کا قیام: 12 نومبر 1933ء کو کاشغر میں "اسلامی جمہوریہ مشرقی ترکستان" کے قیام کا اعلان کیا گیا۔

  • ناکامی کی وجہ: اس جمہوریہ کو سوویت یونین (روس) اور چینی جنگجو سرداروں نے مل کر ختم کر دیا۔ روس نہیں چاہتا تھا کہ اس کی سرحد کے قریب ایک مضبوط اسلامی ریاست قائم ہو جو اس کے اپنے زیرِ اثر وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے مثال بن جائے۔

ہ۔ دوسری جمہوریہ مشرقی ترکستان (1944ء–1949ء)

یہ تحریک "تین اضلاع کا انقلاب" (Three Districts Revolution) کے نام سے مشہور ہے۔

  • آزاد ریاست: الی (Ili) کے علاقے میں مسلمانوں نے دوبارہ ایک آزاد حکومت قائم کی جس کی اپنی فوج، کرنسی اور نظامِ حکومت تھا۔

  • 1949ء کا المیہ: جب چین میں کمیونسٹ انقلاب آیا، تو مشرقی ترکستان کے ان رہنماؤں کو مذاکرات کے لیے بیجنگ بلایا گیا۔ راستے میں ایک مشکوک "طیارہ حادثے" میں تمام اہم ایغور رہنما شہید ہو گئے۔ اس قیادت کے خاتمے کے بعد چینی کمیونسٹ فوج (PLA) بغیر کسی بڑی مزاحمت کے خطے میں داخل ہوگئی اور قبضہ مکمل کر لیا۔

و۔ موجودہ صورتحال اور مزاحمت

1949ء کے بعد سے اب تک مسلح جنگ تو بڑے پیمانے پر نہیں ہوئی، لیکن 1990ء (بارین بغاوت) اور 2009ء (ارومچی فسادات) جیسے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مقامی آبادی نے کبھی چینی تسلط کو دل سے قبول نہیں کیا۔

مشرقی ترکستان کی یہ جنگیں ظاہر کرتی ہیں کہ یہاں کے مسلمانوں نے کبھی بھی اپنی شناخت پر سمجھوتہ نہیں کیا اور ہر صدی میں آزادی کے لیے بڑی قربانیاں دیں۔


یعقوب بیگ کے دور میں خلافتِ عثمانیہ کے ساتھ تعلقات

یعقوب بیگ (Yaqoob Beg) کا دور مشرقی ترکستان کی تاریخ میں ایک سنہرا اور منفرد باب ہے، کیونکہ یہ وہ وقت تھا جب اس خطے نے نہ صرف چین سے آزادی حاصل کی بلکہ خود کو عالمی سطح پر، خاص طور پر خلافتِ عثمانیہ کے ساتھ جوڑ کر اپنی اسلامی شناخت کو مضبوط کیا۔

خلافتِ عثمانیہ اور یعقوب بیگ کی ریاست (جسے 'کاشغریہ' یا 'ہفت شہر' کہا جاتا تھا) کے درمیان تعلقات کی تفصیل درج ذیل ہے:

الف۔ مذہبی اور سیاسی بیعت

یعقوب بیگ ایک دور اندیش حکمران تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ایک چھوٹی اور نئی ریاست کو روس، برطانیہ اور چین جیسے طاقتور پڑوسیوں کے درمیان برقرار رکھنے کے لیے عالمی مسلم حمایت کی ضرورت ہے۔

  • سلطان کو خلیفہ تسلیم کرنا: یعقوب بیگ نے عثمانی سلطان (سلطان عبدالعزیز) کو اپنا روحانی اور سیاسی پیشوا تسلیم کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی ریاست خلافتِ عثمانیہ کا ایک حصہ یا اس کے زیرِ اثر ہے۔

  • خطبہ اور سکہ: اسلامی روایت کے مطابق، خودمختاری کے دو بڑے نشان ہوتے ہیں۔ یعقوب بیگ نے مشرقی ترکستان کی مساجد میں جمعہ کا خطبہ عثمانی سلطان کے نام پر پڑھوایا اور ریاست کے سکے بھی سلطان ہی کے نام پر جاری کیے۔

ب۔ عثمانی وفود اور سفارتی تعلقات

1870ء کی دہائی میں دونوں ریاستوں کے درمیان باقاعدہ سفارتی وفود کا تبادلہ ہوا:

  • سفارت خانہ: یعقوب بیگ نے اپنے قریبی ساتھی سید یعقوب خان کو استنبول بھیجا تاکہ سلطان سے باقاعدہ تعلقات استوار کیے جا سکیں۔

  • سرکاری اعزازات: عثمانی سلطان نے یعقوب بیگ کی درخواست قبول کی اور انہیں "امیر المؤمنین" اور "اتالیق غازی" کے خطابات سے نوازا، جس سے ان کی حکومت کو پوری اسلامی دنیا میں ایک قانونی اور مذہبی حیثیت مل گئی۔

ج۔ فوجی تعاون اور امداد

خلافتِ عثمانیہ نے صرف زبانی حمایت پر اکتفا نہیں کیا بلکہ عملی طور پر بھی مشرقی ترکستان کی مدد کی:

  • اسلحہ کی فراہمی: عثمانیوں نے کاشغر کی فوج کو ہزاروں جدید رائفلمیں اور کئی توپیں فراہم کیں۔

  • فوجی ماہرین: سلطان نے اپنے بہترین فوجی افسران اور انسٹرکٹرز کو کاشغر بھیجا تاکہ وہ یعقوب بیگ کی فوج کو جدید خطوط پر منظم کر سکیں۔ ان افسران نے وہاں کے سپاہیوں کو جدید جنگی حکمت عملی اور توپ خانے کا استعمال سکھایا۔

د۔ عثمانی پرچم کا لہرانا

یعقوب بیگ کے دور میں مشرقی ترکستان کے سرکاری دفاتر اور فوجی قلعوں پر عثمانی پرچم (چاند تارے والا سرخ جھنڈا) لہرایا جاتا تھا۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ یہ خطہ عالمِ اسلام کی مرکزی خلافت سے جڑا ہوا ہے۔

ہ۔ عثمانیوں کی دلچسپی کی وجہ

عثمانی سلطنت کے لیے مشرقی ترکستان کی اہمیت دوہری تھی:

  • اتحادِ اسلامی (Pan-Islamism): سلطان عبدالعزیز اور بعد میں سلطان عبدالحمید ثانی کے دور میں "اتحادِ اسلامی" کی پالیسی پر زور دیا گیا تاکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک مرکز پر جمع کیا جا سکے۔

  • وسطی ایشیا میں اثر و رسوخ: عثمانی چاہتے تھے کہ روس کی جنوبی سمت پیش قدمی کو روکا جائے، اور مشرقی ترکستان اس مقصد کے لیے ایک اہم رکاوٹ ثابت ہو سکتا تھا۔

تعلقات کا خاتمہ

اٹھارہ سو ستتر میں یعقوب بیگ کی اچانک وفات اور اس کے بعد چینی حملے نے اس ابھرتی ہوئی اسلامی ریاست کو ختم کر دیا۔ اگرچہ یہ ریاست مختصر رہی، لیکن اس نے ثابت کر دیا کہ مشرقی ترکستان کے عوام کی جڑیں استنبول اور مکہ سے جڑی ہوئی ہیں، نہ کہ بیجنگ سے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post