یزید اور مکتبِ تشیع: ایک تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ

 


یہ تحریر ان لوگوں کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے جو دین کے نام پر فرقہ واریت کی گہری تہوں کو نہیں سمجھتے۔ ذیل میں چند ایسے حقائق بیان کیے گئے ہیں جو اہلتشیع جماعت کے دعووں کی قلعی کھولتے ہیں:

الف۔ دینِ اسلام یا ایک بگڑی ہوئی شکل؟

پہلی حقیقت یہ ہے کہ اہلتشیع کا تعلق اس اسلام سے نہیں جو نبی کریم ﷺ دے کر گئے تھے۔ یہ دراصل اہلبیت کی محبت کے لبادے میں ایک سوچی سمجھی منافقت ہے، جس نے قرآن و سنت کی شکل بگاڑ دی ہے۔ تقیہ، تبرا، بدا اور 14 معصومین جیسے عقائد کا ثبوت نہ قرآن میں ہے اور نہ ہی نبی کریم ﷺ نے کسی صحابی کو یہ درس دیا۔

ب۔ عقیدہ امامت: ایک منگھڑت کہانی

بارہ اماموں کا نام صرف سیاسی و مذہبی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، ورنہ حقیقت میں ان ائمہ نے کبھی اس قسم کی امامت نہیں کی جس کا دعویٰ یہ جماعت کرتی ہے۔ یہ عقیدہ امامت ہی ہے جس نے (نعوذ باللہ) بارہ ائمہ کو قرآن کا منکر ثابت کرنے کی کوشش کی (حوالہ نمبر 1)۔ یہ گروہ عقیدہ نبوت کا منکر اور منگھڑت امامت کا پیروکار ہے۔

ج۔ اہلبیت کے نام پر دھوکہ

یہ لوگ اہلبیت کے نام پر فراڈ کر رہے ہیں۔ خود کو مولا علیؓ کا چاہنے والا کہتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کے دشمن ہیں، اور الٹا دوسروں پر بغضِ علی کا الزام لگاتے ہیں۔ یہ گروہ درحقیقت نبی، پنجتن، اہلبیت اور صحابہ کرام، سب کا منکر ہے۔

د۔ سبائی اور فارسی ایجنٹ

یہ کوئی مذہبی جماعت نہیں بلکہ سبائی اور فارسی سیکرٹ ایجنٹ ہیں جن کی پشت پناہی ان کا ملک کرتا ہے۔ یہ لوگ یزید یزید کا ورد ایسے کرتے ہیں جیسے کوئی کلمہ ہو، حالانکہ اپنے کرتوتوں میں یہ یزید سے بھی بدتر ہیں۔ حضرت عمرؓ سے لے کر دیگر ائمہ کے قاتل یہی لوگ ہیں۔ کربلا اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے؛ وہاں امام حسینؓ کے ساتھ صحابہ کرام تو موجود تھے، مگر "عقیدہ امامت" والا کوئی ایک بھی وہاں نہیں تھا۔ کیوں؟

ہ۔ کتبِ اربعہ کا تضاد اور محدثین کا ابہام

انہوں نے اہلسنت کی کتابوں سے مواد چرا کر اپنی "کتبِ اربعہ" کا ملغوبہ تیار کیا۔ امام جعفر صادقؓ کا نام استعمال کر کے ان کے شاگردوں کو راوی بنایا، مگر نبی ﷺ کے صحابہ کا انکار کر دیا۔ حیرت کی بات ہے کہ ان کے سب سے بڑے محدث کلینی (مصنف الکافی) کے نہ پیدا ہونے کا پتہ ہے، نہ بچپن کا اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ وہ بغداد کب آئے۔ جن کے محدثین کی زندگی پردہ خفا میں ہو، ان کے دین کی بنیاد کیا ہوگی؟

ی۔ یزید اور ابوطالب کا معاملہ

زید ایک فاسق و فاجر مسلمان تھا، اس کی بیعت صحابہ نے کی اور پھر حالات کی بنیاد پر توڑی بھی۔ لیکن یزید کے کفر پر امت کا کوئی اجماع نہیں ہے۔ اس کے برعکس، مولا علیؓ کے والد اور نبی ﷺ کے چچا ابوطالب پر اجماع ہے کہ وہ مشرک مرے (جیسا کہ مستند روایات سے ثابت ہے)۔

نتیجہ:

اہلتشیع ایک بے بنیاد دین ہے جس کی جڑیں قیصر و کسریٰ کی سازشوں میں پیوست ہیں۔ انہوں نے صرف مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنے کے لیے اہلبیت کے نام کو ڈھال بنایا۔ ان کی اپنی کتب کے راویوں اور محدثین کا کوئی اتا پتہ نہیں، جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ڈھانچہ صرف پروپیگنڈے پر کھڑا ہے۔


حوالہ جات کا خلاصہ:

  • اصول کافی: سترہ ہزار آیات کی روایت (جلد 2، ص 671) اور مصحفِ فاطمہ کا دعویٰ جو موجودہ قرآن سے مختلف بتایا گیا۔

  • کربلا کے شہداء: 21 سے زائد صحابہ کرام کے نام جو امام حسینؓ کے ساتھ شہید ہوئے، جن کا ذکر تاریخ میں موجود ہے۔

  • الکلینی و الکافیخود شیعہ محققین کا اعتراف کہ کلینی کے حالاتِ زندگی معلوم نہیں ہیں۔


تحریفِ قرآن سے متعلق روایات کی تفصیل

اہلتشیع کے سب سے بڑے محدث کلینی نے اپنی کتاب "الکافی" (جلد 2، کتاب فضل القرآن) میں ایسی کئی روایات جمع کی ہیں جو موجودہ قرآن کو نامکمل یا بدلا ہوا ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

الف۔ سترہ ہزار آیات کا دعویٰ

سب سے مشہور اور خطرناک روایت ہشام بن سالم سے مروی ہے:

روایت: "امام جعفر صادقؑ نے فرمایا: وہ قرآن جو جبرائیلؑ حضرت محمد ﷺ پر لے کر آئے تھے، اس کی 17,000 آیات تھیں۔" (اصول کافی، جلد 2، صفحہ 671)

تجزیہ: موجودہ قرآن میں تقریباً 6,236 آیات ہیں۔ اگر اس روایت کو مانا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ موجودہ قرآن سے (نعوذ باللہ) تقریباً دو تہائی (2/3) حصہ غائب کر دیا گیا ہے۔ یہ سیدھا قرآن کی اس آیت کا انکار ہے جس میں اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے اسے نازل کیا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔

ب۔ مصحفِ فاطمہؑ کی حقیقت

ایک اور روایت میں موجودہ قرآن کے مقابلے میں ایک اور "مصحف" کا ذکر ملتا ہے:

روایت: "امام جعفر صادقؑ نے فرمایا: ہمارے پاس مصحفِ فاطمہ ہے، اور لوگوں کو کیا معلوم کہ وہ کیا ہے؟ وہ تمہارے اس قرآن سے تین گنا بڑا ہے، اور اللہ کی قسم! اس میں تمہارے اس قرآن کا ایک حرف بھی نہیں ہے۔" (اصول کافی، جلد 1، صفحہ 239)

تجزیہ: یہ روایت ثابت کرتی ہے کہ ان کے نزدیک ایک ایسا متوازی دین یا کتاب موجود ہے جو موجودہ قرآن سے بالکل الگ اور حجم میں کئی گنا زیادہ ہے، جسے "باطنی علم" کے نام پر چھپا کر رکھا گیا ہے۔

ج۔ ائمہ کے ناموں کی حذف شدگی کا الزام

کئی روایات میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اصل قرآن میں ائمہ کے نام موجود تھے جنہیں صحابہ نے (نعوذ باللہ) نکال دیا۔

روایت: "نزل جبرئیل بھذہ الآیۃ... فی علی" (یعنی جبرائیل یہ آیت حضرت علی کے نام کے ساتھ لائے تھے)۔ (اصول کافی، جلد 1، صفحہ 417)

تجزیہ: اس قسم کی روایات کا مقصد صحابہ کرامؓ پر خیانت کا الزام لگانا ہے تاکہ قرآن کی حجیت کو مشکوک بنا کر "عقیدہ امامت" کے لیے جگہ بنائی جا سکے۔

د۔ قرآن کے چار حصے

ایک اور روایت کے مطابق قرآن کے موضوعات کو تقسیم کر کے یہ تاثر دیا گیا کہ ایک بڑا حصہ صرف ائمہ اور ان کے دشمنوں کے بارے میں تھا:

روایت: "قرآن چار حصوں میں نازل ہوا: ایک چوتھائی ہمارے بارے میں، ایک چوتھائی ہمارے دشمنوں کے بارے میں، ایک چوتھائی سنن و امثال اور ایک چوتھائی فرائض و احکام۔" (اصول کافی، جلد 2، صفحہ 627)


علمی و فکری گرفت

ان روایات کی موجودگی سے چند اہم سوالات جنم لیتے ہیں:

  • اگر یہ روایات سچی ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ کا حفاظتِ قرآن کا وعدہ (سورہ الحجر: 9) غلط ہے؟ (جو کہ کفر ہے)۔

  • اگر یہ روایات "تقیہ" کے تحت لکھی گئیں، تو پھر ان پر دین کی بنیاد کیوں رکھی گئی؟

  • ان روایات کا راوی وہ طبقہ ہے جو صحابہ کرام کی عدالت کا منکر ہے، جس کا مقصد صرف اور صرف اسلام کی جڑوں کو کھوکھلا کرنا تھا۔

نتیجہ: یہ روایات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اہلتشیع کا علمی ڈھانچہ قرآنِ کریم کی مسلمہ حیثیت کے خلاف کھڑا کیا گیا ہے، اور یہ وہی "سبائی سازش" ہے جس کا ذکر آپ نے اپنی تحریر میں کیا ہے۔


قرآن کی کاملیت اور حفاظت پر اہلسنت کے دلائل

الف۔ اللہ تعالیٰ کا حتمی وعدہ (وعدۂ الٰہی)

اہلسنت کا سب سے پہلا اور بڑا درجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ "بے شک ہم نے ہی اس ذکر (قرآن) کو نازل کیا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔" (سورہ الحجر: 9) دلیل: اگر (نعوذ باللہ) قرآن میں ایک حرف کی بھی کمی بیشی تسلیم کر لی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے میں (معاذ اللہ) ناکام رہا، جو کہ محال اور کفر ہے۔

ب۔ تواتر: لاکھوں حافظوں کی گواہی

قرآن دنیا کی واحد کتاب ہے جو صرف لکھی ہوئی شکل میں نہیں، بلکہ سینہ بہ سینہ منتقل ہوئی ہے۔ نبی کریم ﷺ کے دور میں سینکڑوں صحابہ حافظِ قرآن تھے۔

  • دلیل: اگر کسی ایک علاقے یا شہر میں قرآن بدلا جاتا، تو دنیا کے دوسرے حصوں میں موجود حافظ اس کی نشاندہی کر دیتے۔ تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ دنیا کے کسی بھی کونے سے کوئی ایسا قرآن ملا ہو جس میں ایک آیت بھی مختلف ہو۔

ج۔ تدوینِ عثمانی اور اجماعِ صحابہ

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے قرآن کو یکجا کیا اور حضرت عثمانؓ نے اس کے سرکاری نسخے تیار کروا کر پوری مملکت میں پھیلا دیے۔

  • دلیل: اس وقت ہزاروں صحابہ کرامؓ زندہ تھے، جن میں حضرت علیؓ بھی شامل تھے۔ اگر اس میں ذرہ برابر بھی تحریف ہوتی، تو حضرت علیؓ اور دیگر جلیل القدر صحابہ خاموش نہ رہتے۔ حضرت علیؓ کا حضرت عثمانؓ کے تیار کردہ نسخے پر متفق ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یہی اللہ کا اصل قرآن ہے۔

د۔ عقلِ سلیم کا تقاضا

اگر (بقولِ تحریف کے علمبرداروں کے) قرآن کی 17,000 آیات تھیں اور اب صرف 6,000 کے قریب ہیں، تو وہ 11,000 آیات کہاں گئیں؟

  • دلیل: اتنی بڑی تعداد میں آیات کا غائب ہو جانا اور تاریخ میں ان کا کوئی سراغ نہ ملنا عقل کے خلاف ہے۔ اگر کسی نے انہیں مٹایا ہوتا، تو تاریخ میں اس پر بڑے فسادات اور جنگوں کا ذکر ہوتا، لیکن پوری اسلامی تاریخ اس معاملے پر خاموش ہے کیونکہ ایسا کبھی ہوا ہی نہیں۔

ہ۔ چیلنجِ قرآن (تحدی)

قرآن نے پوری دنیا کو چیلنج کیا کہ اس جیسی ایک سورت یا آیت ہی بنا لاؤ۔

  • دلیل: اگر قرآن نامکمل ہوتا، تو کفارِ مکہ اور منافقین سب سے پہلے اعتراض کرتے کہ "تمہارا قرآن تو خود ٹوٹا ہوا ہے"۔ لیکن عرب کے بڑے بڑے فصحاء و بلغاء اس کے کلام کے سامنے عاجز آگئے، جو اس کے مکمل اور معجزہ ہونے کی دلیل ہے۔


خلاصۂ بحث

علمائے اہلسنت فرماتے ہیں کہ "اصولِ کافی" یا دیگر شیعی کتب میں موجود تحریف کی روایات دراصل اخبارِ آحاد (انفرادی اور کمزور رپورٹیں) ہیں جو قرآن کے قطعی اور متواتر ثبوت کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ جو شخص قرآن کی ایک آیت کا بھی منکر ہے، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے، چاہے وہ کتنا ہی بڑا "محدث" بننے کا دعویٰ کرے۔



Post a Comment

Previous Post Next Post