حق گوئی کی داستان: امام اوزاعیؒ اور جابر سلطان

 

دمشق کے در و دیوار ابھی تک بنو امیہ کے لہو سے سرخ تھے۔ عباسی خلافت کا سورج طلوع ہو رہا تھا، لیکن یہ طلوع خون ریزی کے بادلوں میں چھپا ہوا تھا۔ خلیفہ عبداللہ، جسے تاریخ نے اس کی بے پناہ سفاکی کی وجہ سے "السفاح" (خون بہانے والا) کا لقب دیا، اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے ایک ہاتھ میں حکومت کی باگ ڈور تھی اور دوسرے میں وہ تلوار جس نے 38 ہزار انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

ایک عجیب سوال اور ایک جرات مند نام

ایک دن سفاح نے اپنے درباریوں کی طرف دیکھا، جن کی گردنیں جھکی ہوئی تھیں، اور گرج کر پوچھا: "کیا اس پوری ریاست میں کوئی ایسا شخص ہے جو میرے سامنے کھڑا ہو کر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مجھ پر اعتراض کرنے کی ہمت رکھتا ہو؟"

دربار میں سناٹا چھا گیا۔ پھر ایک دبی ہوئی آواز آئی: "امیر المومنین! صرف ایک ہی شخص ایسا ہے... امام اوزاعیؒ۔"

موت کی تیاری

جب امام اوزاعیؒ کو خلیفہ کا بلاوا ملا، تو وہ سمجھ گئے کہ یہ بلاوا نہیں بلکہ موت کا پیغام ہے۔ لیکن وہ اللہ کے سپاہی تھے۔ انہوں نے خاموشی سے غسل کیا، خوشبو لگائی اور اپنے کپڑوں کے نیچے کفن پہن لیا۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ "میں سچ بولنے جا رہا ہوں، اور اس کی قیمت زندگی دے کر چکانے کے لیے تیار ہوں۔"

ہیبت ناک دربار کا منظر

محل کے راستے میں خلیفہ نے رعب جمانے کے لیے دو قطاروں میں مسلح سپاہی کھڑے کر دیے تھے جن کی ننگی تلواریں آپس میں ٹکرا کر چنگاریاں پیدا کر رہی تھیں۔ امام ان تلواروں کے سائے سے گزرے، لیکن ان کے چہرے پر خوف کا ایک سایہ بھی نہ تھا۔ بعد میں انہوں نے خود فرمایا:

"جب میں داخل ہوا تو میں نے اپنے دل میں قیامت کا وہ منظر یاد کر لیا جب لوگ اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اس کے بعد میرے سامنے خلیفہ کی حیثیت ایک مچھر سے زیادہ نہ رہی۔"

مکالمہ: حق اور طاقت کی جنگ

خلیفہ نے غصے سے پوچھا: "اوزاعی! بتاؤ، جو کچھ ہم نے (بنو امیہ کے خلاف) کیا، کیا وہ جہاد ہے؟"

امام نے نپا تلا جواب دیا: "امیر! اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ اگر تمہاری نیت اللہ کے لیے تھی تو وہ جانے، اور اگر دنیا کے لیے تھی تو تمہیں وہی ملے گا۔"

خلیفہ تلملا اٹھا، اس نے لکڑی زمین پر ماری اور دوسرا سوال کیا: "ان ہزاروں لوگوں کے خون کے بارے میں کیا کہتے ہو جو ہم نے بہائے؟"

امام اوزاعیؒ نے بغیر کسی لگی لپٹی کے حدیثِ رسول ﷺ سنا دی: "مسلمان کا خون صرف تین صورتوں میں حلال ہے: قصاص، زنا (شادی شدہ کا)، اور ارتداد۔ ان کے علاوہ کسی صورت میں خون بہانا جائز نہیں۔"

خلیفہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا، وزراء نے اپنے کپڑے سمیٹ لیے تاکہ امام کی گردن کٹنے پر خون کے چھینٹے ان پر نہ پڑیں۔ موت سر پر کھڑی تھی، لیکن امام کی زبان پر "حسبی اللہ" کا ورد تھا۔

بے نیازی کی جیت

حیرت انگیز طور پر، سفاح کی ہیبت امام کے تقویٰ کے سامنے ڈھیر ہو گئی۔ اس نے امام کو قتل کرنے کے بجائے پیسوں کی ایک تھیلی ان کی طرف پھینک دی۔ امام نے وہ تھیلی اٹھائی، دربار سے باہر نکلے اور وہیں غریبوں میں تقسیم کر دی۔ خالی تھیلی پھینک کر وہ سر بلند کیے وہاں سے رخصت ہو گئے جیسے کوئی فاتح لشکر گزر رہا ہو۔

تاریخ کا فیصلہ

برسوں بعد جب امام اوزاعیؒ کا انتقال ہوا، تو وہی "سفاح" ان کی قبر پر کھڑا رو رہا تھا اور کہہ رہا تھا:

"اللہ کی قسم! میں اس شخص سے جتنا ڈرتا تھا، روئے زمین پر کسی سے نہیں ڈرا۔ جب بھی میں اسے دیکھتا، مجھے ایسا لگتا جیسے کوئی بپھرا ہوا شیر میری طرف آ رہا ہے۔"


سبق: یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ جب انسان کے دل میں اللہ کا ڈر بیٹھ جائے، تو دنیا کا کوئی بھی خوف اسے حق کی راہ سے نہیں ہٹا سکتا۔

Post a Comment

Previous Post Next Post